|تحریر: جو اتارڈ، ترجمہ: ولید خان|

ہندوستانی سیاست میں اپریل-مئی کے انتخابات ایک تاریخی مرحلہ تھے۔ وزیراعظم نریندرا مودی کی ہندو قوم پرست پارٹی بی جے پی نے مغربی بنگال فتح کر لیا جبکہ لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (LDF) کو کیرالا میں شرمناک شکست ہوئی۔ 1977ء کے بعد آج یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ایک ریاست میں کسی کمیونسٹ پارٹی کی حکومت نہیں ہے۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) دو مرکزی کمیونسٹ پارٹیوں میں سب سے بڑی اور کم از کم الفاظ کی حد تک سب سے زیادہ ریڈیکل کمیونسٹ پارٹی ہے۔ اس کے اپنے الفاظ کے مطابق کیرالا میں نتائج ”ایک سنجیدہ سانحہ“ ہیں۔ یہ درست بیان نہیں ہے۔ ہندوستانی سرمایہ داری کی مرکزی پارٹی انڈین نیشنل کانگریس نے 63 نشستیں جیتی ہیں۔ اس کے یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (UDF) میں موجود اتحادیوں نے 39 نشستیں جیتی ہیں، یعنی کیرالا ریاستی اسمبلی کی 140 میں سے 102 نشستیں UDF کے پاس ہیں۔ اس دوران CPI(M) کی سربراہی میں چار پارٹی اتحاد جس میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (CPI) بھی شامل ہے، 12 فیصد ووٹ شیئر ہار چکی ہے۔ یہ نتائج کسی قیامت سے کم نہیں ہیں۔
لیکن یہ سانحہ عدم سے وجود میں نہیں آ گیا۔ یہ انڈین کمیونسٹ پارٹیوں کے دہائیوں سے جاری انحطاط کا نتیجہ ہے جس میں مارکس اور لینن کے نظریات اور طریقہ کار کو ترک کر کے مجرمانہ طبقاتی مفاہمت کی پالیسی اپنائی گئی۔ آج اس صورتحال سے محنت کشوں اور نوجوانوں کو اسباق سیکھنے کی ضرورت ہے۔
کمیونسٹ کیرالا میں ہار گئے، مودی مغربی بنگال میں جیت گیا
اگرچہ CPI(M) اقوام متحدہ کے دعوے کا ڈھنڈورا پیٹتی رہی ہے کہ کیرالا سے شدید غربت کا ”خاتمہ“ کیا جا چکا ہے، ”کمیونسٹ“ حاکمیت میں حقیقی زندگی ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔ زندگی کی گراں قدری اوقات سے باہر ہو چکی ہے، 15 فیصد بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور بہتر زندگی کی تلاش میں ہجرت کرنے والے نوجوانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ LDF نے ایک ”کرپشن سے پاک ریاست“ کا جو ڈھونگ رچا رکھا ہے۔ اس کا بھی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ اقرباء پروری اور بدانتظامی اس کے کوآپریٹیو بینکوں کو گھن کی طرح کھا رہے ہیں اور ایک سونا اسمگلنگ ریکٹ کے الزامات بھی مسلسل لگ رہے ہیں۔
اگرچہ CPI(M) کیرالا میں نتائج کا ”BJP قیادت میں یونین حکومت کی جانب سے لگائی گئی مالیاتی پابندیوں“ پر الزام لگا رہی ہے لیکن سچ یہی ہے کہ انہوں نے بھی اڈانی اور امبانی کے سرمایہ دار طبقہ کے لیے محنت کشوں پر ہولناک حملے کیے ہیں۔ اس پر ہم آگے بات کریں گے۔ طبقاتی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کے برعکس CPI(M) اور CPI نے ”جمہوریت“ اور ”سیکولرازم“ کا الاپ لگائے رکھا ہے، یعنی ان میں اور کانگریس میں کوئی فرق نظر نہیں آتا اگرچہ یہ پارٹی زیادہ مودی مخالف نظر آتی ہے۔ اس لیے ”لال کیرالا“ میں کمیونسٹ پارٹیوں کی شدید دھلائی ہوئی ہے۔
اگرچہ کیرالا میں شکست انڈیا کے بچے کھچے لیفٹ کے لیے ایک دیوہیکل علامتی شکست تھی، مغربی بنگال کا نتیجہ BJP کے لیے ایک شاندار فتح ہے۔ 2014ء سے اب تک 10 کروڑ عوام کی یہ ریاست پورے ملک پر مودی تسلط کے خلاف ڈھٹائی سے کھڑی رہی ہے۔ لیکن حیران کن تبدیلی میں، BJP ریاست کی 294 نشستوں میں سے 207 نشستیں جیت چکی ہے۔ سابق حاکم ترینامول کانگریس (TMC) جو کانگریس سے علیحدہ ہونے والی ایک علاقائی پارٹی ہے، محض 80 نشستوں تک محدود رہ گئی ہے۔
TMCاور اس کی قائد ممتا بینر جی (جو خود اپنی نشست ہار چکی ہے) نے اپنی ہار کا سارا الزام الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے سر ڈال دیا ہے۔ یہ ادارہ BJP افسر شاہی سے ٹھونسا ہوا ہے اور اس نے انتخابی لسٹوں کو ایسے از سر نو تشکیل دیا کہ 27 لاکھ افراد (جن میں زیادہ تر مسلمان ہیں) اپنا ووٹ کا حق گنوا بیٹھے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بینرجی نے دعویٰ کیا ہے کہ BJP نے ”سو سے زیادہ نشستیں لوٹ لی ہیں“۔ لیکن اگر عوام کی 4.3 فیصد آبادی مودی کے غیر جمہوری اقدامات کا شکار ہوئی ہے تو بھی یہ بیان نہیں کیا جا سکتا کہ BJP نے TMC پر 5 فیصد برتری کیسے حاصل کی ہے۔ یہاں مودی پارٹی کی دیوہیکل اڑان بھی واضح نہیں ہوتی۔

TMCکی پندرہ سالہ حکمرانی میں عوام کی زندگیاں برباد ہو چکی ہیں۔ ”جمہوریت“ کے لیے تجریدی راگ الاپ کر پیٹ میں روٹی یا بینک اکاؤنٹ میں پیسے نہیں بھر جاتے۔ بینرجی کی حکومت کرپشن اور بدانتظامی میں سر سے پیر تک ڈوبی پڑی ہے۔ مثلاً پچھلے سال محکمہ صحت کے 25 ہزار ملازمین کو نوکریوں سے برخاست کر دیا گیا کیونکہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق 2016ء میں کی گئی بھرتیاں ہیرا پھیری اور فراڈ کا نتیجہ ہیں کیونکہ TMC افسر شاہی نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو عہدوں سے نوازا ہے۔ TMC نے 2020ء میں کسانوں کی دیوہیکل تحریک کی بھی مخالفت کی تھی جس نے مودی سرکار کو رجعتی زرعی قانون بل ختم کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اگر یہ بل قانون بن جاتا تو انڈین کسانوں کی پہلے سے موجود تباہ حالی مزید بربادی میں تبدیل ہو جاتی۔ یعنی پارٹی عوام کے سامنے مکمل طور پر ننگی ہو چکی تھی۔
اس صورتحال نے BJP کو موقع فراہم کیا کہ وہ اپنا روایتی مذہبی فرقہ وارانہ ”فرقہ پرست“ زہر اگلتے ہوئے ہندو ووٹ حاصل کرے اور ساتھ میں TMC امیدواروں پر ”بنگلہ دیشی جاسوس“ کا الزام لگا کر ہیجان برپا کر دے۔ پھر BJP نے فلاحی پالیسیوں اور شخصی سیاست پر TMC کے انحصار کو بھی مسلح کر دیا۔ اس نے بیروزگار نوجوانوں اور خواتین کے لیے 3 ہزار روپیہ ماہانہ الاؤنس، حاملہ خواتین کے لیے مالیاتی مدد، موجودہ اسکیموں کی مراعتوں میں وسعت، ریاستی نوکریوں میں خواتین کا 33 فیصد کوٹہ اور بس میں مفت سفر وغیرہ کے اعلانات کیے۔
لیکن اس سارے معاملے میں ایک اہم عنصر CPI(M) کا مغربی بنگال میں مجرمانہ کردار ہے جہاں اس نے اپنے ممبران کو خاموشی سے BJP امیدواروں (عوام میں اس پارٹی کو ”فسطائی“ گردانا جاتا ہے) کی حمایت کرنے کا کہا تاکہ TMC کی چھٹی کروائی جائے۔ اس تاریخی انتخابی بیوقوفی نے CPI(M) کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا اور نتیجہ مغربی بنگال میں صرف ایک نشست کی جیت تھا۔
کسی مخصوص مسئلے یا تفصیل سے بالاتر، یہ نتائج حتمی طور پر کمیونسٹ لیفٹ کی غلیظ کاشت کا زہریلا پھل ہے۔ یہ لیفٹ، مغربی بنگال میں 2011ء تک ریاستی اسمبلی کا قائد بھی رہا ہے۔
بعد از انتخابات تجزیے میں CPI(M) نے نوحہ کیا کہ ”BJP کی قیادت میں رائٹ وِنگ فرقہ پرست قوتوں کی اٹھان تمام سیکولر، ترقی پسند اور جمہوری قوتوں کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے“۔ اس نے عہد کیا کہ ”تمام ضروری درست اقدامات کیے جائیں گے اور عوام کے حقوق کی جدوجہد اور سیکولرازم اور جمہوریت کا دفاع جاری رکھا جائے گا“۔
یہاں ہم اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔ ”رائٹ وِنگ فرقہ پرست قوتوں“ کے خلاف ”سیکولرازم اور جمہوریت“ کا دفاع، انقلاب یا سوشلزم تو دور کی بات ہے، یہاں طبقاتی جدوجہد تک کا ذکر نہیں ہے، یہ اشارہ دے رہا ہے کہ CPI(M) نے ان انتخابات یا دہائیوں سے جاری کمیونسٹ لیفٹ کے قابل مذمت انحطاط سے کوئی ایک سبق نہیں سیکھا ہے۔
بٹوارے میں کمیونسٹ پارٹی کا کردار
کیرالا میں کمیونسٹ پارٹی کی شکست اور مغربی بنگال میں مودی کی فتح کوئی انوکھے واقعات نہیں ہیں۔ ان ”سانحات“ کی جانب غلطیوں اور جرائم سے بھرپور سفر کا آغاز 1947ء میں ہندوستانی برصغیر کے بٹوارے سے ہوا تھا۔
انڈیا کے محنت کش طبقے کی طویل انقلابی روایات ہیں جنہوں نے بھگت سنگھ جیسی عظیم شخصیات کو جنم دیا جسے برطانوی سامراج نے 1931ء میں قتل کر دیا تھا۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (CPI) کی بنیادیں 1920ء کی دہائی میں تعمیر ہوئی تھیں اور اس نے برطانوی سامراج کے خلاف 1928-29ء کی ریڈیکل ہڑتالی تحریکوں میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ برطانوی سامراج نے CPI کو دبانے کی کوششیں کیں اور اس کی قیادت کو گرفتار کیا۔ ان اقدامات نے اس پارٹی کی ساکھ اور مشہوری میں مزید اضافہ کیا اور 1930ء کی دہائی کے اختتام تک انڈیا کے محنت کش طبقے اور کسانوں میں عوامی بنیادوں کے ساتھ یہ ایک دیوہیکل قوت بن چکی تھی۔
بدقسمتی سے اس وقت تک کمیونسٹ انٹرنیشنل روس میں جوسیف سٹالن کی شخصیت کے گرد مرتکز رد انقلابی افسر شاہی کے ہاتھوں مکمل طور پر انحطاط پذیر ہو چکی تھی۔ سوویت سماج کی بالائی سطح پر ایک مراعت یافتہ افسر شاہی نے روسی انقلاب پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کا مقصد فوری مفادات اور مراعات کا تحفظ بن چکا تھا۔ اس کا عملی مطلب تمام آزاد محنت کش تحریکوں اور پارٹیوں کے پر کاٹنا تھا جو اس کی اتھارٹی کے لیے چیلنج بن سکیں۔
CPIکے بانی نظریہ دان ایم این رائے کو کمنٹرن کے دباؤ کے تحت 1929ء میں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ 1935ء میں CPI کو باضابطہ سیکشن قبول کرنے سے پہلے اس کی قیادت کو تابعدار کٹھ پتلیوں سے ٹھونسا جا چکا تھا۔ بعد میں ماسکو میں موجود ان کا نمائندہ وریندراناتھ چاتوپادھیائے سٹالن تطہیر وں میں مارا گیا تھا۔
کمنٹرن نے انڈین پارٹی پر جھوٹی منشویک تھیوری مسلط کر دی جس کے تحت غیر ترقی یافتہ ممالک کو سوشلزم سے پہلے سرمایہ دارانہ ارتقاء سے گزرنا ناگزیر تھا۔ اس کے تحت مستقبل کے تمام دھوکوں کو بنیادیں فراہم کی گئیں۔ CPI نے اپنا انقلابی پروگرام جمہوری مطالبات میں تبدیل کر دیا جس کے بعد اس میں اور مہاتما گاندھی کی بورژوا قوم پرست انڈین نیشنل کانگریس میں کوئی فرق نہ رہا جو بعد میں آزادی کی جدوجہد کی قائد بن گئی۔

دوسری عالمی جنگ کے آغاز میں جنگ مخالف اور سامراج مخالف پوزیشن لینے کے باوجود 1941ء میں ہٹلر کی روس پر فوج کشی کے بعد جب CPI کو ماسکو سے احکامات جاری ہوئے تو اس نے اپنی پوزیشن مکمل تبدیل کر لی۔ اس نے برطانوی سامراج کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور برطانوی فوج کے لیے سپاہیوں کی بھرتی میں مدد کی۔ اس نے انڈیا میں برطانوی راج کے خاتمے کے خلاف جدوجہد میں بھی ایک فرقہ پرست پوزیشن لی۔ کمیونسٹ پارٹیوں نے برطانوی سامراج کی حکمرانی ختم کرنے کے لیے جاری بھارت چھوڑو تحریک پر بھی غلط اور فرقہ پرور مؤقف اختیار کیا۔ اس تحریک کی قیادت گاندھی کر رہا تھا۔ اس سامراج مخالف عوامی تحریک میں شمولیت اختیار کرنے کی بجائے ان پارٹیوں نے برطانوی سامراج اور ان کی ہی بنائی ہوئی مسلم لیگ کا ساتھ دیا۔
CPIکو خدمات کے عوض قانونی حیثیت سے نوازا گیا۔ اس حوالے سے اس نے اپنے تشکر کا اظہار ہڑتالوں اور فوج سے بھگوڑوں کی مخالفت میں کیا۔ آزادی کی مخالفت اور برطانوی سامراج کے ساتھ گٹھ جوڑ نے CPI کو نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف جدوجہد سے مکمل طور پر کاٹ کر رکھ دیا۔
جنگ کے بعد آزادی کی جدوجہد ایک مرتبہ پھر بھڑک اٹھی جس کا تاج 1946ء میں برطانوی انڈین نیوی کے 20 ہزار ملاحوں کی بغاوت تھی۔ مشترکہ ہندو مسلم ہڑتالی کمیٹی نے سوشلسٹ نعرے بلند کیے۔ اس کے بعد بننے والی عوامی انقلابی تحریک CPI کے لیے ایک بنی بنائی تحریک تھی۔ لیکن ”مرحلہ وار نظریے“ کے تحت کمیونسٹوں نے کانگریس کی اس لیے غیر مشروط حمایت کی کہ یہ واحد پارٹی ہے جو انڈیا کا ”جمہوری انقلاب“ مکمل کرے گی۔ CPI کی مرکزی کمیٹی نے ایک ”اعلامیہ برائے پالیسی 1947ء“ جاری کیا جس میں واضح کیا گیا کہ وہ کانگریسی قائد جواہر لال نہرو کی ”فخر سے حمایت“ کرے گی۔
اس تنگ نظر قوم پرست پالیسی کے تحت ہندوستان کو کاٹ کر ایک اسلامی ریاست پاکستان بنانے کے لیے مسلم لیگ کے قائد محمد علی جناح کی حمایت بھی کی گئی۔ اس وقت CPI کے قائد پی سی جوشی کے مطابق:
”ہم وہ پہلے تھے جنہوں نے بھانپ لیا اور اس کے کردار میں تبدیلی کا اعتراف کیا جب لیگ نے مکمل آزادی کو اپنا مقصد بنا لیا اور اپنے جھنڈے تلے مسلمان عوام کو متحرک کرنا شروع کر دیا۔ ہم نے اپنی پارٹی میں طویل بحث مباحثہ کیا اور 1941-42ء میں نتیجہ اخذ کیا کہ یہ ایک سامراج مخالف تنظیم بن چکی ہے جو مسلمان عوام کی آزادی کی خواہش کا اظہار کر رہی ہے، کہ پاکستان کا مطالبہ حق خودارادیت اور ہندوستان کی آزادی کا مطالبہ ہے، کانگریس اور لیگ کا ایک فوری مشترکہ فرنٹ سامراجی ڈیڈلاک کو توڑنے کے لیے پہلا قدم ہے۔“
CPIنے پنجاب میں اپنی بچی کھچی ساکھ کو استعمال کرتے ہوئے 1945-46ء کے صوبائی انتخابات میں لیگ کے لیے حمایت متحرک کی۔ CPI کے کیڈر دانیال لطیفی نے پنجاب مسلم لیگ کا مینی فیسٹو لکھا۔
یعنی ہندوستانی انقلاب کو ایک طبقاتی کمیونسٹ قیادت فراہم کرنے کے برعکس CPI نے بورژوا قوم پرست پارٹیوں کی قیادت میں ہندو مسلم تقسیم کی حمایت کی۔ بالآخر کانگریس نے انقلاب کو دھوکہ دیتے ہوئے اگست 1947ء میں برطانوی سامراج کے ساتھ ایک غلیظ معاہدے کے تحت ہندوستان کا بٹوارہ کروا دیا۔ اس نے قوم پرست خون خرابے کا ایسا بازار گرم کیا جس میں 20 لاکھ تک لوگ قتل ہوئے اور ایسی فرقہ پرست نفرتوں نے جنم لیا جن میں برصغیر آج تک جل رہا ہے۔
نہرو نے جونک حکمران طبقے کی خاطر نئے آزاد انڈیا میں محنت کشوں اور غرباء پر جبر کیا جس نے ملکی دولت پر قبضہ کرنے کے لیے بٹوارے کی حمایت کی تھی۔ اس دوران ”سامراج مخالف“ اور ”آزادی پسند“ مسلم لیگ نے نئے تسلط زدہ پاکستان میں ایک بوناپارٹسٹ اسلامی حکومت قائم کر دی۔
اس تباہی و بربادی کے لیے CPI کی حمایت کو نام نہاد مرحلہ وار تھیوری کے تحت درست قرار دیا گیا کہ ہندوستان فی الحال سوشلزم کے لیے ”تیار“ نہیں ہے۔ اس تجربے نے پارٹی کے ایماندار طبقاتی جنگجوؤں کو شدید مایوس کر دیا۔ لبرل لکھاری خوشونت سنگھ نے اپنے ناول ”ٹرین ٹو پاکستان“ میں CPI کارکنان کی شدید فرسٹریشن کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
”گاؤں میں گوردوارے کے باغ میں ایک کھاٹ پر لیٹے تارے دیکھتے ہوئے اس نے سوچا ’اس میں ہندو، مسلم، سکھ، کانگریسی، اکالی یا کمیونسٹ سب ملوث ہیں۔ بس اتنا درکار تھا کہ پکڑو اور قتل کرو، جبلت کو فرقہ پرستی سے موڑ کر ملکیتی طبقات کی طرف موڑ دیا جاتا۔ یہ محنت کش طبقے کا انقلاب تھا جو آسان تھا۔‘ اس کو تکلیف یہ تھی کہ پارٹی قائدین اس طرح نہیں دیکھتے۔“
بٹوارے کے بعد کنفیوژن اور طبقاتی مفاہمت
ایک نہیں بلکہ دو بورژوا ریاستوں کے جنم میں کلیدی کردار ادا کرنے کے بعد CPI بحران کا شکار ہو گئی۔ پارٹی 1950ء کی دہائی میں انتہائی دائیں بازو کی مہم جوئی، جیسے تلنگانہ میں تباہ کن مسلح جدوجہد منظم کرنے کی کوشش اور نہرو کی کانگریس، جس نے 1960ء کی دہائی میں سوویت یونین سے قریبی تعلقات استوار کر لیے تھے، کے ساتھ موقع پرست مفاہمت کے درمیان جھولتی رہی۔
بہرحال CPI نے انڈیا کے نئے آزاد سرمایہ دار طبقے کے غرباء پر تسلط اور جبر کی کوششوں کے خلاف کچھ مزاحمت کے حوالے سے اپنی حمایت میں اضافہ کیا۔ پارٹی جلد بحال ہو گئی اور زرعی اصلاحات کی جدوجہد اور ٹریڈ یونینز کی قیادت حاصل کرنے میں کامیاب رہی جس کے بعد وہ انڈین پارلیمنٹ میں لوک سبھا میں دوسری بڑی پارٹی بن گئی۔ لیکن پارٹی قائدین نے ہمیشہ کانگریس کے ساتھ انقلابی ٹکراؤ لینے سے پرہیز کیا۔ درحقیقت وہ نہرو کے ساتھ تعاون کرتے رہے اگرچہ اس نے 1959ء میں انڈیا کی پہلی کمیونسٹ حکومت کو کیرالا میں برخاست کر دیا تھا۔
پارٹی کے عام کارکنوں میں بڑھتی فرسٹریشن کے نتیجے میں ایک ’رائٹ‘ وِنگ بن گیا جو ماسکو کے زیادہ قریب تھا اور نہرو کے ’سوشلزم‘ کی حمایت کرتا تھا اور ایک ’لیفٹ‘ وِنگ جو چینی انقلاب سے حوصلہ لیتے ہوئے کسانوں کی حمایت کے ساتھ ایک مسلح جدوجہد کا حامی تھا۔ سائنو سوویت تقسیم نے 1964ء میں اس تقسیم کو ایک حتمی شکل دی اور ’لیفٹ‘ وِنگ نے CPI(M) بنا لی۔ کسی بنیادی نظریاتی جھگڑے کے برعکس دونوں کمیونسٹ پارٹیاں محض روسی اور چینی افسرشاہی کی آپسی تقسیم کا اظہار تھیں جو خود اپنے تنگ نظر تزویراتی مفادات کا تحفظ کر رہی تھیں۔
اس کا اظہار 1967ء میں نکسل باڑی، مغربی بنگال میں ایک مسلح بغاوت کے وقت ہوا جس میں کسانوں اور جبر کی شکار ذاتوں نے اپنے زمین داروں کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مسلح جدوجہد کا آغاز کر دیا۔ ”نکسل باڑیوں“ نے دہائیوں تک جاری رہنے والی ایک خونی اور حتمی طور پر لاحاصل خانہ جنگی کا آغاز کر دیا۔ لیکن اسے دیہی علاقوں میں زمین کا استحصال کرنے والے زمین داروں اور سرمایہ داروں کے خلاف واحد مزاحمت کے طور پر حمایت حاصل رہی۔ CPI اور اس کے ساتھ CPI(M)، وہ پارٹی جس کو بنانے کا مقصد ہی کسانوں کی مسلح جدوجہد کو آگے بڑھانا تھا، نے نکسل باڑیوں کی مخالفت کی کہ وہ ”طفلی مہم جو“ ہیں اور ان کی سرکوبی کی حمایت کی۔ اس کے نتیجے میں ایک اور تقسیم ہو گئی جس نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ۔لیننسٹ) کو جنم دیا۔
1975-1977ء میں انڈیا کے ”ہنگامی دور“ میں طبقاتی جدوجہد ایک مرتبہ پھر بھرپور انداز سے منظر عام پر ابھری۔ اس دور میں عالمی سرمایہ دارانہ بحران اور فصلوں کی تباہی نے ایک بڑے معاشی بحران کو جنم دیا۔ اندرا گاندھی کی کانگریس حکومت ننگی آمریت کی جانب بڑھی، شہری حقوق کو کچل ڈالا، ایک لاکھ سیاسی مخالفین کو گرفتار کر لیا اور انتہائی سختی سے ہڑتالوں اور احتجاجوں پر جبر کیا۔

CPIنے ان شرمناک حملوں کو ایک لیفٹ ڈھال فراہم کی اور جواز پیش کیا کہ ”ہمارے جمہوری نظام کو ختم کرنے کا فوری خطرہ“ اسی طرح سے نمٹا جا سکتا ہے۔ اس پوزیشن پر CPI کا ایسا زوال شروع ہوا جس سے وہ کبھی بحال نہیں ہو سکی اور اس کے نتیجے میں کانگریس کے خلاف BJP کے پیش رو جان سنگھ کی حمایت بڑھ گئی۔
اس نے CPI(M) کی ساکھ میں بھی اضافہ کیا جسے گاندھی کے آمرانہ اقدامات کی مخالفت نے 1977ء میں مغربی بنگال کے ریاستی انتخابات میں ایک لیفٹ فرنٹ کی قیادت میں فتح مند کر دیا۔ لیکن ان نام نہاد ”کمیونسٹ سیاست دانوں“ نے عرصہ دراز پہلے انقلابی طبقاتی جدوجہد منظم کرنے کا نظریہ ترک کر دیا تھا۔ وہ مکمل طور پر متفق تھے کہ انڈیا ابھی سوشلزم کے لیے تیار نہیں ہے، یہ ایک موافق ڈھال تھی جس کی چھاؤں میں انڈین سرمایہ داری کے اہداف مکمل ہوتے رہے اور اس دوران ان کے نئے اقتدار کی مراعات کا تحفظ بھی جاری رہا۔
انڈیا کی سب سے زیادہ آبادی اور سب سے اہم معیشت والی ریاست کے انتظامات کی ذمہ داری ملنے کے بعد CPI(M) نے طبقاتی جدوجہد کا گلا گھونٹنے کے لیے سرمایہ داروں اور زمین داروں کو اپنی تمام خدمات وقف کر دیں۔ مغربی بنگال میں CPI(M) کے آخری وزیر اعلیٰ بدھا دیو بھاٹاچارجی نے 2006ء میں سرمایہ کاروں کی ایک میٹنگ میں لیفٹ فرنٹ کا کردار مکمل واضح کیا تھا کہ ”میں ہڑتالوں کے خلاف ہوں۔ بدقسمتی سے میں ایک ایسی پارٹی کا ممبر ہوں جو ہڑتالوں کا مطالبہ کرتی ہے“۔
پارٹی نکسل باڑیوں کے قتل عام پر تالیاں بجانے سے بڑھ کر استحصالی سرمایہ داروں کے لیے اپنے ساتھی ”کمیونسٹوں“ کو کچلنے پر لگ گئی۔ انہوں نے 1979ء میں ماریچ جھاپی قتل عام جیسے غلیظ کام بھی کیے جس میں سندربنس سے کسانوں کو جبری طور پر بے زمین کیا گیا۔ پھر یہ افسر شاہی ریاستی خزانے کو لوٹ کر اپنے آپ کو نوازنے سے کبھی نہیں شرماتی تھی۔
افسر شاہی قصائی بن گئی
ہنگامی دور کے بعد 1980ء کی دہائی کے اختتامی سالوں اور 1990ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں ”نیو لبرل“ دور کا آغاز ہوا۔ کانگریس نے انڈیا کے معاشی بحران کو (جو سوویت یونین کے انہدام کے بعد تیز ہو گیا تھا) بیرونی سرمایہ کاری کے آگے سجدہ ریز ہو کر حل کرنے کی کوشش کی۔
CPI(M)اور CPI کا انتخابی سیاست کی جانب تنگ نظر سفر رواں دواں رہا۔ انہوں نے ایک دہائی کبھی ایک رجعتی سرمایہ دار بلاک اور کبھی دوسرے بلاک کے ساتھ غیر اصولی اتحاد بنانے میں گزار دی۔ پہلے انہوں نے BJP (یہ فسطائی RSS کا سیاسی فرنٹ ہے) کے ساتھ مل کر ”نیشنل فرنٹ“ اتحاد کی حمایت کی کہ ”کانگریس کا مقابلہ“ کرنا ہے۔ جب نیشنل فرنٹ حکومت 1990ء میں منہدم ہو گئی تو کمیونسٹ پارٹیوں نے ایک ساتھ پارٹی ”یونائیٹڈ فرنٹ“ میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس نے 2022ء میں کانگریس کی قیادت میں یونائیٹڈ پراگریسیو الائنس (UPA) کا حصہ بن کر انتخابات میں حصہ لیا کیونکہ اس مرتبہ ”BJP کا مقابلہ“ کرنا تھا۔

اس دوران مغربی بنگال میں لیفٹ فرنٹ حکومت، جو طبقاتی جدوجہد اور کمیونسٹ مزاحمت کا قلعہ بن سکتی تھی اور اسے بننا چاہیے تھا، ان تمام غلیظ انتخابی سمجھوتوں کی انڈیا کی ”سیکولر جمہوریت“ کا تحفظ کی لفاظی سے ستر پوشی کرتی رہی۔
لیکن CPI(M) کی تاریخ کا سیاہ ترین دن مارچ 2007ء میں طلوع ہوا جب لیفٹ فرنٹ حکومت نے ”کمیونسٹ کیڈر“ بھیج کر نندی گرام میں ایک کسان احتجاج پر خوفناک جبر اور تشدد کیا۔ یہ کسان اپنی زمینوں پر قبضہ کرنے والی کمپنی سالم گروپ کے خلاف جدوجہد کر رہے تھے۔ یہ کمپنی 1960ء کی دہائی میں انڈونیشیا میں لاکھوں کمیونسٹوں کے قاتل جنرل سوہارتو کے داماد کی تھی۔ اس سرمایہ دار کے احکامات پر CPI(M) کے غنڈوں اور ریاستی پولیس نے مل کر نندی گرام میں سو سے زیادہ قتل اور ریپ کیے۔
زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے مغربی بنگال میں CPI(M) کے قائدین نے اپنی پوزیشن کو ”نظریات“ کا رنگ دینے کی کوشش میں بیانیہ گھڑا کہ زراعت صنعت کی طرح پیداواری نہیں ہے اس لیے یہ ”کمیونسٹ فریضہ“ ہے کہ سالم گروپ کے لیے راستہ صاف کیا جائے! اس ہولناک واقعے سے منہ کالا کرنے کے بعد 2009ء میں آپریشن لال گڑھ لانچ کیا گیا۔ اس عسکری آپریشن کا مقصد ریاست میں ماؤسٹ گوریلا کا قتل عام کر کے ”امن اور قانون“ کو بحال کرنا تھا۔
2011ء میں CPI(M) کو عوام نے اقتدار سے بے دخل کر دیا کیونکہ ان واقعات کے زخم ابھی تک ہرے تھے۔ مغربی بنگال میں تخت کھونے کے بعد کمیونسٹ پارٹی قائدین نے ایک وسیع ”BJP مخالف، کانگریس مخالف“ تیسرا فرنٹ بنانے کی کوشش کی جس میں وہ رائٹ وِنگ پارٹیاں بھی شامل تھیں جو ان دو مرکزی بورژوا کیمپوں کی مخالفت کرتی تھیں۔ ان اوچھے ہتھکنڈوں نے عوام کی نظر میں ان کی ساکھ اور بھی برباد کر دی۔
کیرالا میں LDF حکومت کی بھی یہی کہانی ہے۔ 1979ء میں اقتدار پر قابض ہونے کے بعد CPI(M) کی ریاستی حکومت نے ”نہرو“ کینیشئن اخراجات کے تحت کچھ مراعات فراہم کیں لیکن محنت کشوں اور غرباء کے خلاف مالکان کے ساتھ گٹھ جوڑ اور کرپشن نے اس کی اتھارٹی برباد کر دی۔
مثلاً 2020ء میں LDF حکومت پر الزام لگا کہ وہ عرب امارات سے سونا اسمگل کر رہی ہے جہاں کیرالا تارکین وطن کی ایک وسیع آبادی موجود ہے۔ پھر 2022ء میں LDF حکومت نے انڈیا کے امیر ترین سرمایہ دار گوتم اڈانی کی ایک بندرگاہ کی تعمیر کے لیے ریاستی جبر پر مرکز میں مودی حکومت کی مکمل حمایت کی۔ کیرالا حکومت کے وزیر ماہی گیری وی عبدالرحمان نے احتجاجوں کو ”ملک دشمن“ قرار دے دیا۔ LDF نے مغربی بنگال کے تجربات سے کچھ نہیں سیکھا اور اس کا نتیجہ کیرالا میں رسوائی کی شکل میں نکلا ہے۔
کمیونسٹ پارٹیوں نے مودی کی کیسے مدد کی
انڈیا میں سٹالنسٹ پارٹیوں نے مودی کی اقتدار تک رسائی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ طویل عرصوں میں ان کے پاس عوامی پذیرائی رہی لیکن انہوں نے ہر موقعے پر یہ راستہ واضح کرنے سے انکار کر دیا کہ غربت اور افلاس سے باہر نکلنے کا ایک ہی راستہ سوشلسٹ انقلاب ہے۔ اس کے برعکس وہ کبھی ایک بورژوا اتحاد تو کبھی دوسرے بورژوا اتحاد کا دم چھلہ بنے رہے ہیں اور اپنی غلیظ کرپشن اور طبقاتی مفاہمت سے کمیونزم کو ہی بدنام کر ڈالا ہے۔ اس زرخیز زمین پر مودی کے ”گجرات ماڈل“ کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا جو انڈین قومی صنعتوں کی جارحانہ نجکاری اور مسلمانوں اور مظلوم اقلیتوں کے خلاف ہندوتوا اشتعال انگیزی کے مرکب پر مبنی پالیسی ہے۔

2014ء میں مودی وزیراعظم بنا ہے اور اس وقت سے سٹالنسٹوں نے اپنی تمام قوتیں کانگریس کی حمایت میں خرچ کر دی ہیں کہ BJP ”فاشزم“ کا یہی واحد حل ہے۔ اس کے نتیجے میں کانگریس زندہ ہو گئی ہے اور یہ مردہ ہو چکی ہیں۔ 2023ء میں CPI نے ایک قومی پارٹی کے طور پر اپنا تشخص کھو دیا اور تریپورہ قانون ساز اسمبلی کا کنٹرول BJP نے CPI(M) سے چھین لیا۔ اگلے سال CPI اور CPI(M) دونوں نے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی قیادت میں انڈیا اتحاد کے تحت حصہ لیا جس میں شیو سینا جیسی ہندوتوا پارٹیاں بھی شامل تھیں جو BJP سے زیادہ انتہاء پسند ہے۔
پچھلے چند سالوں میں انڈیا نے کسانوں کی دیوہیکل تحریکیں دیکھی ہیں، کرونا وباء کی تباہی و بربادی میں سے گزرا ہے اور انسانی تاریخ کی دو سب سے بڑی عام ہڑتالیں دیکھی ہیں، دونوں کی کال کمیونسٹ زیر قیادت ٹریڈ یونین اتحادوں نے دی تھی۔ ایک لمحہ کے لیے تو آپ بھی سوچ میں پڑ جائیں گے کہ ایک سیاسی قوت کے طور پر یہ حالات تو کمیونزم کے احیاء کے لیے انتہائی سازگار ہیں۔
لیکن شرمناک طبقاتی مفاہمت اور اقتدار میں ذلت آمیز ریکارڈ کی بنیاد پر کمیونسٹ پارٹیوں کی حمایت ایک ایسی نہج پر پہنچ چکی ہے کہ وہ اپنے ہی قلعوں میں شکست خوردہ ہو چکی ہیں۔ کمیونسٹ پارٹیوں نے ہر شکست کو ثبوت مان لیا ہے کہ عوام ”انتہائی پسماندہ“ اور ”قدامت پرست“ ہے۔ اس گھن چکر میں وہ اور بھی زیادہ موقع پرست بن رہے ہیں۔
2020ء میں ایک حقیقی عوامی جدوجہد کا آغاز ہوا تھا جس کی قیادت کسان کر رہے تھے۔ اگر کوئی بھی سنجیدہ کمیونسٹ پارٹی موجود ہوتی تو وہ مطالبہ کرتی کہ ایک متحدہ مزدور کسان تحریک کا آغاز ہو جو مودی سرکار کو ختم کر دے۔ اس کے برعکس کمیونسٹوں نے اپنا تمام تر تجزیہ مودی کی ”آمریت“ کے خلاف انڈین ”پارلیمانی جمہوریت“ کے دفاع تک محدود رکھا۔ CPI(M) کے ایک مرکزی کیڈر سیتارام یاچورے نے تو یہاں تک کہا کہ ”ہم کسان مسئلے کو سیاسی نہیں بنانا چاہتے!“۔
پھر جب مودی نے مقبوضہ کشمیر کے قریب فضائی حملوں کا آغاز کیا جس کے نتیجہ میں مئی 2025ء میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک محدود جنگ ہوئی، دونوں پارٹیوں نے قومی جھنڈا سینے سے لگا کر مودی سرکار کی حمایت کی۔ وہ اس حد تک گئے کہ ایک مجوزہ عام ہڑتال کو بھی منسوخ کر دیا کیونکہ وہ ”قومی مفاد“ میں انڈیا کی ”جمہوریت“ کا دفاع زیادہ اہم سمجھتے تھے۔
حتمی طور پر کمیونسٹ پارٹیوں کو کوئی اعتماد نہیں ہے کہ محنت کش طبقہ سرمایہ داری کا خاتمہ کرتے ہوئے سماج کو منظم کر سکتا ہے، یہ اعتماد انہیں کبھی بھی نہیں تھا۔ اس شک و شبہ کی بنیاد مارکسی مخالف سٹالنسٹ ”تھیوری“ ہے جو ان کی تاریخ کا خاصہ رہی ہے۔ اس کا نتیجہ اصلاحات کی راہ یا بورژوا قوم پرستی کی دلالی ہی نکلا ہے۔
1992ء میں CPI(M) کی ایک مخصوص دستاویز ”مخصوص نظریاتی مسائل پر“ ایک اہم سبق ہے۔ سوویت یونین منہدم ہونے کے بعد اس نے 1950ء اور 1960ء کی دہائیوں میں CPI کے نظریاتی ”مسائل“ کی نشاندہی کی تھی کہ ”انہیں یقین تھا کہ سوشلزم ممکن ہے“۔ درحقیقت دستاویز میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ سرمایہ داری میں ابھی بھی پیداواری قوتوں کو ترقی دینے کی گنجائش موجود ہے۔ اس لیے فوری فریضہ سوشلسٹ انقلاب کے برعکس ”جمہوری انقلاب کو مکمل“ کرنا ہے۔ اس میں CPI(M) کے کردار پر لکھا گیا ہے کہ:
”قوم کی تمام حب الوطن قوتوں کے ساتھ اتحاد یعنی وہ جو قبل از سرمایہ داری سماج کی باقیات کو ختم کرنے کے خواہش مند ہیں؛ کسان کے مفاد میں اور ایک مکمل زرعی انقلاب کرنا چاہتے ہیں؛ بیرونی سرمائے کا خاتمہ چاہتے ہیں اور انڈین معیشت، سماجی زندگی اور ثقافت کی ایک ریڈیکل تعمیر نو کی راہ میں تمام رکاوٹوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔“
ان ”محب وطن قوتوں“ میں محنت کشوں کے علاوہ ”متوسط اور امیر کسان، شہری اور دیگر متوسط طبقات اور قومی بورژوازی کی وسیع پرتیں“ ہیں۔ اس دستاویز میں وضاحت کر دی گئی ہے۔ CPI(M) نہیں سمجھتی کہ اس کا کام محنت کش طبقے اور کسانوں کو سوشلسٹ انقلاب کے لیے منظم کرنا ہے کیونکہ اس کا دعویٰ ہے کہ اس کام کے لیے عالمی سطح اور خاص طور پر پسماندہ انڈیا میں حالات موافق نہیں ہیں۔ اس کے برعکس ہمیں بتایا گیا ہے کہ کمیونسٹوں کا فرض محنت کشوں اور کسانوں کو بورژوازی کے ساتھ ایک اتحاد میں شامل کرنا ہے تاکہ ”قومی جمہوری“ انقلاب کو مکمل کیا جا سکے۔
یہ معاملہ حیران کن ہے۔ آج عالمی سطح پر محنت کش طبقہ اپنی تاریخ میں سب سے زیادہ طاقتور ہے اور سرمایہ داری تاریخی بحران کا شکار ہے۔ یہ صورتحال ایک سوشلسٹ انقلاب کے لیے پک کر تیار ہونے سے بھی زیادہ اب گلنے سڑنے کی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اس دوران انڈیا کا GDP دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے اور اب اپنے سابق نوآبادیاتی آقا برطانیہ سے مدمقابل ہے۔ اس کی دوا سازی اور ٹیکنالوجی کی صنعتیں دنیا کی جدید ترین صنعتوں میں سے ایک ہیں۔ اس کے پورے برصغیر میں سامراجی عزائم موجود ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے جس کا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا محنت کش طبقہ ہے جس کی حقیقی کمیونسٹ اور انقلابی روایات ہیں۔ کس پیمانے کے مطابق انڈیا میں ایک سوشلسٹ انقلاب کے لیے حالات پک کر تیار نہیں ہیں؟
انڈین سماج میں پسماندگی، غربت اور عدم مساوات آزادی کے بعد پروان چڑھنے والی انڈین سرمایہ داری کا خاصہ ہیں۔ بورژوازی میں کوئی ”ترقی پسند“ دھڑا موجود نہیں ہے اور کوئی سماج کو ترقی دینے کے قابل نہیں ہے۔ درحقیقت 1947ء سے اب تک زیادہ تر عرصہ کانگریس برسراقتدار رہی ہے۔ یہ اس کا استحصالی اور جابرانہ ریکارڈ ہے جس نے مودی سرکار کی راہ ہموار کی ہے۔
سٹالنسٹوں نے اپنے آپ کو طبقاتی جدوجہد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا لیا ہے جس کا جواز ”قومی جمہوری“ انقلاب کا دفاع، انڈین جمہوریت کی پوجا اور نہرو کے آئین کی پاسداری بتائے جاتے ہیں جنہوں نے کئی سو کروڑ انسانوں کو غربت اور افلاس میں جکڑ رکھا ہے۔ ہر قیمت پر مودی کی ”فسطائیت“ سے لڑنے کا بہانہ اس گلی سڑی حکمت عملی کا جدید شاخسانہ ہے جس کی بنیاد دیوالیہ مرحلہ واریت کا غلیظ ”نظریہ“ ہے۔ اگر آج عوام نے ان سے منہ موڑ لیا ہے تو اس کی قصور وار یہی ”کمیونسٹ“ پارٹیاں ہیں۔
ان ناکامیوں کی داستان پر اب سرخ لکیر کھینچنی پڑے گی۔ حقیقی مارکسی نظریات، بالشویزم کی روایات اور انڈیا کے حقیقی طبقاتی جنگجو جیسے بھگت سنگھ کی میراث کی بنیاد پر ایک حقیقی انقلابی پارٹی تعمیر کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ بھگت سنگھ ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ داری کے خاتمے کی ضرورت پر بالکل واضح تھا اور اپنے مضامین میں ٹراٹسکی کے اقوال کا حوالہ دیا کرتا تھا۔ ایک ایسی پارٹی دوبارہ سے تاریخ کا ٹوٹا دھارا بحال کرے گی اور انڈیا کے دیوہیکل طاقتور محنت کش طبقے کا رشتہ ایک مرتبہ پھر اس کی حقیقی لڑاکا انقلابی میراث سے جوڑے گی۔
ہم انڈیا کے لڑاکا محنت کشوں اور نوجوانوں کی جانب اپنا ہاتھ بڑھاتے ہیں جو سٹالنسٹ بدمعاشوں اور طبقاتی مفاہمت پرستوں کے ہاتھوں کمیونزم کا عظیم جھنڈا کیچڑ میں لت پت دیکھ کر تنگ آ چکے ہیں۔ ہمارے ساتھ شامل ہوں! انڈیا کے انقلاب کے شایان شان ایک پارٹی کی تعمیر کا فریضہ ہمارے کندھوں پر آن پڑا ہے۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا میں شامل ہوں۔
انقلاب زندہ باد!