|تحریر: زلمی پاسون|
(نوٹ: یہ مضمون 27 اور 28 اپریل 1978ء کو افغانستان میں برپا ہونے والے ثور انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر لکھا گیا تھا۔)

آج سے تقریباً 48 سال قبل افغانستان میں برپا ہونے والا ثور انقلاب کسی اچانک پیش آنے والے واقعے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ دہائیوں سے پنپنے والے ان گہرے سماجی، معاشی اور عالمی تضادات کا منطقی نتیجہ تھا جو افغان معاشرے کی بنیادوں میں موجود تھے۔ بیسویں صدی کے وسط تک افغانستان ایک پسماندہ، نیم جاگیردارانہ اور قبائلی سماج کی تصویر پیش کر رہا تھا، جہاں معیشت کا تمام تر دارومدار قدیم طرز کی زراعت پر تھا۔ اس دور میں صنعت کاری نہ ہونے کے برابر تھی اور شرح خواندگی کا یہ عالم تھا کہ آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ بنیادی تعلیم سے بھی محروم تھا۔ سماج کے سیاہ و سفید پر قبائلی سرداروں، جاگیرداروں اور مذہبی اشرافیہ کا مکمل غلبہ تھا، جو کسی بھی قسم کی تبدیلی کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔
محمد ظاہر شاہ کے طویل دورِ حکومت میں اگرچہ حکمران طبقے کی سطح پر ایک ظاہری استحکام نظر آتا تھا، مگر یہ استحکام دراصل ایک ایسے گہرے سماجی جمود کی عکاسی کرتا تھا جس نے ملک کو ترقی کی دوڑ میں پیچھے دھکیل دیا تھا۔ ظاہر شاہ کی حیثیت محض ایک روایتی بادشاہ کی تھی، جس کا بنیادی مقصد اپنی بادشاہت کا تحفظ اور شاہی خاندان کے مراعات یافتہ طبقے کی بقا تھا۔ اسے افغانستان کے عام محنت کش عوام کی حالتِ زار بہتر بنانے میں کوئی دلچسپی تھی اور نہ ہی وہ ملک کی پسماندگی اور غربت کو ختم کرنے کے لیے کسی انقلابی تبدیلی کا خواہاں تھا۔ ریاست کی پالیسیاں عوامی فلاح کی بجائے پرانے طاقت کے رشتوں کو برقرار رکھنے کے گرد گھومتی رہیں، تاکہ سماج پر اشرافیہ کی گرفت کبھی کمزور نہ پڑے۔
اس دور میں افغان معاشرہ ایک واضح طبقاتی تقسیم کا شکار تھا، جہاں دیہی اور شہری آبادی کے درمیان خلیج بہت گہری ہو چکی تھی۔ افغانستان کی تقریباً 85 فیصد سے زائد آبادی دیہاتوں میں مقیم تھی جو مکمل طور پر کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھی۔ ان دیہی علاقوں میں جاگیردارانہ جبر کا راج تھا اور کسان نسل در نسل قرضوں اور بے گاری کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔ دوسری جانب شہری مراکز میں بھی محنت کش طبقہ اور متوسط طبقہ شدید معاشی دباؤ کا شکار تھا۔ شہروں اور دیہاتوں میں پھیلی یہ غربت اور محرومی ایک لاوا بن کر پک رہی تھی، جسے حکمران طبقے کی بے حسی نے مزید مہیا کیا۔
سرد جنگ کے عالمی تناظر میں افغانستان کی نسبتاً غیر جانبدار پوزیشن نے اسے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے مرکزی دھارے سے جزوی طور پر الگ تھلگ رکھا۔ اس الگ تھلگ پوزیشن نے اگرچہ براہِ راست بیرونی مداخلت کو کچھ وقت کے لیے روکے رکھا، مگر اس کے نتیجے میں ملک کے اندرونی تضادات بتدریج شدت اختیار کرتے گئے۔ جب ریاست نے بنیادی ڈھانچے کی تبدیلی اور صنعتی ترقی سے دانستہ گریز کیا، تو ان تضادات نے سماج میں ایک سیاسی خلا پیدا کر دیا، جس نے بالآخر پرانے بوسیدہ نظام کے خلاف ایک منظم عوامی اور فوجی ردِعمل کی راہ ہموار کر دی، جو ثور انقلاب کی صورت میں ظاہر ہوا۔
بادشاہت کا خاتمہ
اس جمود میں پہلی بڑی دراڑ 1973ء میں اس وقت پیدا ہوئی جب سردار محمد داؤد خان نے بادشاہت کا تختہ الٹ کر جمہوریہ قائم کی۔ داؤد خان ایک قوم پرست اور جدیدیت پسند حکمران تھا جس کے عزائم ایک مضبوط مرکزی ریاست، محدود اصلاحات اور افغانستان کو ایک خودمختار ملک کے طور پر ابھارنے سے جڑے ہوئے تھے۔ اس منصوبے کی ایک اہم جہت اس کی پشتون قوم پرستانہ پالیسی تھی، جس کا نمایاں اظہار ”پشتونستان“ کے مسئلے کی صورت میں ہوا۔ ڈیورنڈ لائن کو غیر فطری سرحد قرار دیتے ہوئے اس مؤقف نے پاکستان کے ساتھ مسلسل کشیدگی پیدا کی اور افغانستان کی خارجہ پالیسی کو ایک مستقل تنازع میں مبتلا کر دیا۔ تاہم یہ قوم پرستانہ ایجنڈا داخلی سماجی و طبقاتی مسائل کو حل کرنے کی بجائے انہیں مزید پیچیدہ کرتا گیا۔
داؤد خان کے اقتدار سے قبل، 1964ء کے آئین کے تحت محمد ظاہر شاہ کے دور میں محدود سیاسی آزادی کا ایک مرحلہ پیدا ہوا تھا، جس میں سیاسی جماعتوں اور طلبہ تحریکوں کو نسبتاً گنجائش ملی۔ اسی ماحول میں 1965ء میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان وجود میں آئی، جو دو سال بعد یعنی 1967ء میں خلق اور پرچم دھڑوں میں منقسم ہوئی۔ 1973ء کی بغاوت کے وقت داؤد خان کو پرچم دھڑے کی بھرپور عملی حمایت حاصل تھی اور ابتدا سے ہی پرچم دھڑے کو ریاستی ڈھانچے میں شامل کیا تھا، جس سے ایک عارضی توازن قائم ہوا، جبکہ خلق دھڑا اقتدار سے مکمل طور باہر اور زیادہ ریاستی جبر کا شکار رہا۔ تاہم جلد ہی یہ توازن ختم ہو گیا اور داؤد خان نے تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا کر اپنی جماعت کے ذریعے یک جماعتی آمریت قائم کر دی، جس سے ریاست اور سماج کے درمیان خلیج مزید گہری ہو گئی۔

ابتدا میں داؤد حکومت کے سوویت یونین کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، کیونکہ افغانستان کی معیشت اور فوجی ڈھانچہ بڑی حد تک سوویت امداد پر انحصار کرتا تھا۔ مگر 1975ء کے بعد اس نے خارجہ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے مغربی طاقتوں، خلیجی ممالک اور شاہِ ایران سے روابط بڑھانے شروع کیے تاکہ سوویت کے انحصار کو کم کیا جا سکے۔ 1977ء میں ماسکو کے دورے کے دوران سوویت قیادت کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی نے اس فاصلے کو واضح کر دیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں ابتری آ گئی اور سوویت یونین کو خدشہ پیدا ہوا کہ داؤد حکومت اس کے اثر و رسوخ سے نکل رہی ہے۔
اسی عرصے میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کے اندرونی تضادات بھی شدت اختیار کر گئے۔ پرچم دھڑا نسبتاً مفاہمتی، افغان نیشنلزم اور تدریجی حکمت عملی کا حامی تھا اور بعض اوقات ریاست کے ساتھ محدود تعاون کی گنجائش رکھتا تھا، جبکہ خلق دھڑا زیادہ انقلابی اور فوری تبدیلی کا داعی تھا اور ابتدا ہی سے ریاستی جبر کا زیادہ شکار رہا۔ یہاں یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ سوویت یونین کو آغاز سے ہی پرچم دھڑے کے قریب سمجھا جاتا تھا۔ سردار داؤد کے ساتھ تعلقات میں ابتری کے بعد 1977ء میں سوویت دباؤ کے تحت دونوں دھڑوں کو متحد کیا گیا تاکہ داؤد حکومت کے خلاف ایک مشترکہ محاذ تشکیل دیا جا سکے، مگر یہ اتحاد سطحی تھا اور اس کے اندر گہرے نظریاتی اختلافات اور باہمی عدم اعتماد بدستور موجود رہے۔
ثور انقلاب کا رونما ہونا
مذکورہ بالا تمام عوامل نے افغانستان کو ایک انتہائی غیر مستحکم صورتحال میں داخل کر دیا، جہاں ریاستی جبر، طبقاتی تضادات، قومی سوال اور عالمی طاقتوں کی رسہ کشی ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھی۔ اس بحران کا فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب 17 اپریل 1978ء کو پرچم دھڑے کے نظریہ دان میر اکبر خیبر کے قتل کے بعد عوامی ردِعمل اور سیاسی دباؤ میں شدت پیدا ہوئی۔ اس کے فوراً بعد پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کی قیادت کو بڑے پیمانے پر گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا، جبکہ سردار محمد داؤد خان نے مبینہ طور پر پوری قیادت کے لیے سزائے موت اور پھانسی کے احکامات جاری کر دیے تھے۔ اسی انتہائی کشیدہ صورتحال میں پارٹی کے خلق دھڑے کے مرکزی رہنما حفیظ اللہ امین نے گرفتاری سے قبل فوج کے اندر موجود پارٹی کے انقلابی عناصر سے رابطہ کرتے ہوئے فیصلہ کن ہدایت جاری کی کہ ریاستی جبر اور قیادت کی ممکنہ اعدام سے پہلے اقتدار پر قبضے کے لیے فوری بغاوت کی جائے۔ اس حکم نے فوج کے اندر پہلے سے موجود انقلابی تیاریوں کو ایک واضح سمت دی اور بالآخر 27 اپریل 1978ء کو فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا گیا۔ صدارتی محل پر حملے کے بعد داؤد حکومت کا خاتمہ ہوا اور یوں ثور انقلاب نے افغانستان کو ایک نئے، ہنگامہ خیز اور طویل تاریخی مرحلے میں داخل کر دیا۔
ایک اہم نکتہ جسے اس پورے تاریخی عمل میں واضح کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ سردار محمد داؤد خان کی آمرانہ طرزِ حکمرانی، سیاسی جبر اور ذاتی ضد نے بالواسطہ طور پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان، بالخصوص اس کے خلق دھڑے کو اس صورتحال تک دھکیل دیا جہاں اقتدار کا سوال ان پر مسلط ہو گیا۔ تاریخی طور پر یہ حقیقت اہم ہے کہ پی ڈی پی اے اس مرحلے پر کسی منظم، مکمل اور طے شدہ انقلابی تیاری کے ساتھ اقتدار پر قبضے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں تھی، بلکہ ریاستی بحران اور داؤد حکومت کے بڑھتے ہوئے جبر نے صورتحال کو ایک ایسے نقطے تک پہنچا دیا جہاں اقتدار کا مسئلہ ان کے سامنے بطور ایک فوری سیاسی حقیقت آ کھڑا ہوا۔ جب ریاست نے پی ڈی پی اے کی قیادت کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا اور مبینہ طور پر سزائے موت کے احکامات جاری کیے گئے، تو اسی دباؤ نے فوج کے اندر موجود انقلابی عناصر اور پارٹی قیادت کو ایک فیصلہ کن اقدام پر مجبور کر دیا۔

اس عمل کو سمجھنے کے لیے عالمی تناظر بھی اہم ہے، کیونکہ اس دور میں سوویت یونین کی سٹالنسٹ بیوروکریسی نے کئی ممالک میں انقلابی تحریکوں کے ساتھ ایک محتاط اور اکثر محدود مؤقف اختیار کیا۔ مثال کے طور پر 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں فرانسیسی مئی 1968ء کے دوران فرانس کی کمیونسٹ پارٹی نے انقلابی ابھار کو مزدور اقتدار میں تبدیل کرنے کی بجائے پارلیمانی حدود تک محدود رکھنے کی پالیسی اپنائی، جس کے نتیجے میں انقلابی موقع ضائع ہو گیا۔ اسی طرح انڈونیشیا میں 1965–66ء کے دوران کمیونسٹ پارٹی پر ریاستی جبر کے نتیجے میں لاکھوں کارکنوں کا قتل عام ہوا، جبکہ پارٹی کی قیادت فیصلہ کن انقلابی حکمت عملی اختیار کرنے میں ناکام رہی۔ بعد ازاں ایران میں 1979ء کے انقلاب کے دوران بھی تودہ پارٹی نے خمینی کی قیادت میں ابھرنے والی تحریک کے مقابلے میں آزادانہ انقلابی اقتدار کی بجائے محتاط اور تابع پالیسی اختیار کی، جس کے نتیجے میں وہ بعد میں شدید ریاستی جبر اور زوال کا شکار ہوئی۔
اس کے برعکس افغانستان میں ثور انقلاب ایک مختلف کیفیت کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہاں پی ڈی پی اے نے تمام کمزوریوں اور داخلی تضادات کے باوجود، ایک انتہائی پسماندہ، نیم سرمایہ دارانہ اور نیم جاگیردارانہ سماج میں اقتدار کے سوال کو براہِ راست قبول کیا اور فوجی بغاوت کے نتیجے میں ریاستی اقتدار سنبھالا۔ یہ اقدام نہ صرف خطے کی سیاسی تاریخ میں ایک غیر معمولی پیش رفت تھا بلکہ اس وقت کی سوویت بیوروکریسی کی محتاط اور محدود حکمت عملی سے ایک نسبتاً آگے بڑھا ہوا قدم بھی تصور کیا جاتا ہے۔ اسی لیے ثور انقلاب کو بعض اوقات خطے کے محنت کشوں کے ایک ابھرتے ہوئے انقلابی تجربے کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے، جس نے اپنی تمام تر پیچیدگیوں اور تضادات کے باوجود ایک ایسے سماج میں ریاستی اقتدار کو چیلنج کیا جہاں صدیوں سے روایتی ڈھانچے حاوی تھے۔
ثور انقلاب کی ٹھوس حاصلات اور عوامی ریلیف
ثور انقلاب کے بعد انقلابی کونسل نے عوامی جمہوریہ افغانستان کے تحت ایسے انقلابی فرمانوں کا سلسلہ شروع کیا جن کا مقصد صدیوں پرانے بوسیدہ نیم جاگیردارانہ و نیم سرمایہ دارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور پسے ہوئے طبقات کو فوری ریلیف فراہم کرنا تھا۔ ان اصلاحات نے افغان معاشرے کی بنیادوں کو بدل کر رکھ دیا۔
سود کا خاتمہ اور زرعی اصلاحات (فرمان نمبر 6 اور 8)
انقلاب کا سب سے تاریخی قدم غریب کسانوں کو ساہوکاروں اور بڑے زمینداروں کے چنگل سے آزاد کرانا تھا۔ فرمان نمبر 6 کے تحت کسانوں پر واجب الادا تمام سودی قرضے منسوخ کر دیے گئے، جس سے تقریباً 11 ملین دیہی آبادی کو نسل در نسل چلنے والی معاشی غلامی سے نجات ملی۔ اسی طرح فرمان نمبر 8 کے تحت ”زمین اس کی، جو اِسے جوتے“ کے اصول پر جاگیرداری کا خاتمہ کر کے لاکھوں ایکڑ اراضی بے زمین کسانوں میں تقسیم کی گئی۔ ان اقدامات نے دیہاتوں میں صدیوں سے قائم طبقاتی طاقت کے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔
خواتین کے حقوق اور سماجی تحفظ (فرمان نمبر 7)
انقلاب نے افغان معاشرے میں خواتین کی حیثیت کو یکسر بدل دیا۔ فرمان نمبر 7 کے ذریعے جبری شادیوں اور لڑکیوں کی فروخت جیسی فرسودہ رسومات کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ لڑکیوں کی شادی کے لیے کم از کم عمر مقرر کی گئی اور خواتین کو تعلیم و روزگار کے یکساں مواقع فراہم کیے گئے، جو اس وقت کے قدامت پسند خطے میں ایک معجزے سے کم نہ تھا۔

تعلیم اور صحت کے میدان میں انقلاب
ملک گیر سطح پر حوصلہ افزائیِ علم کی مہم شروع کی گئی۔ اس میں صرف روایتی سکولوں پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ بڑے پیمانے پر غیر رسمی تعلیم کے مراکز قائم کیے گئے۔ کارخانوں، کھیتوں اور دور دراز دیہاتوں میں تعلیمی بریگیڈز بھیجے گئے تاکہ وہ لوگ جو عمر کے باعث باقاعدہ سکول نہیں جا سکتے تھے، وہ بھی لکھنا پڑھنا سیکھ سکیں۔ صحت کے شعبے میں مفت علاج اور ادویات کی فراہمی کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیا گیا اور دور دراز علاقوں میں ہسپتال اور کلینک تعمیر کیے گئے۔
زبانوں کی پہچان اور مظلوم اقوام کی حمایت
افغانستان کی تاریخ میں پہلی بار پشتو اور دری کے علاوہ دیگر زبانوں (ازبک، ترکمن، بلوچی اور نورستانی) کو قومی شناخت دی گئی۔ ان زبانوں میں اخبارات، ریڈیو پروگرام اور نصابی کتابیں تیار کی گئیں۔ اس اقدام نے پشتون بالادستی کے تاثر کو ختم کر کے تمام نسلی گروہوں کو برابر کی اہمیت دی اور مظلوم اقوام کو قومی دھارے میں شامل کیا۔
سوویت یونین کی تکنیکی امداد اور انفراسٹرکچر
افغانستان کو ایک جدید صنعتی ریاست بنانے کے لیے سوویت یونین سے بڑے پیمانے پر تکنیکی امداد حاصل کی گئی۔ سوویت ماہرین کی مدد سے بجلی کے منصوبے، کارخانے، ہسپتال اور سڑکوں کا جال بچھایا گیا۔ تکنیکی تربیت کے لیے ہزاروں افغان نوجوانوں کو سوویت یونین کی یونیورسٹیوں میں بھیجا گیا تاکہ وہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر ملک کی تعمیرِ نو کر سکیں۔
آرٹ، موسیقی اور ثقافتی بیداری
ثقافت کو عوامی رنگ دیا گیا۔ موسیقی، تھیٹر اور آرٹ کو شاہی درباروں سے نکال کر مزدوروں اور کسانوں کے دکھ سکھ کا ترجمان بنایا گیا۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر عوامی موسیقی اور انقلابی نغموں کو فروغ ملا اور فنکاروں و ادیبوں کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ عوامی جدوجہد کو اپنے فن کا موضوع بنائیں۔
عالمی اہمیت
خطے کے مظلوموں کی آواز افغان ثور انقلاب کو محض ایک ملکی تبدیلی نہیں بلکہ ایک سوشلسٹ انقلاب کے طور پر دیکھا گیا۔ اس نے پاکستان، ایران اور پورے خطے کے مزدوروں، کسانوں اور محکوم عوام میں یہ امید پیدا کی کہ اگر ایک پسماندہ ملک کے عوام منظم ہو کر جاگیرداری اور سامراجیت کو شکست دے سکتے ہیں، تو وہ بھی اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ یہ انقلاب ایشیا کے پسماندہ ممالک کے لیے طبقاتی آزادی اور سماجی انصاف کا ایک روشن مینار بن کر ابھرا۔
انقلاب ثور کی تشریحات اور حقائق کو مسخ کرنا
ثور انقلاب کی تاریخ کو جہاں ایک طرف انقلابی اقدامات کے لیے یاد کیا جاتا ہے، وہیں اس کی تشریحات میں ایسے تضادات اور پروپیگنڈے شامل کیے گئے جنہوں نے حقائق کو مسخ کرنے میں بڑا کردار ادا کیا۔ ان تشریحات کو تین بڑے زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔
پشتون قوم پرستانہ تشریح اور ”ماضی کا نوحہ“
پشتون قوم پرستوں کی تقریباً اکثریت ثور انقلاب کو افغانستان کی تباہی کا نقطہ آغاز قرار دیتی ہے۔ آج بھی یہ جھوٹا پروپیگنڈا عام ہے کہ اگر یہ انقلاب نہ ہوتا تو افغانستان اپنی پرانی حالت (ظاہر شاہ یا داؤد خان کے دور) میں پُر امن رہتا۔ یہ تشریح اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتی ہے کہ ظاہر شاہ اور داؤد خان کا دور کوئی مثالی عہد نہیں تھا، بلکہ وہ سیاسی جمود، بدترین نیم سرمایہ داری، فرسودہ جاگیرداری اور عالمی تنہائی کا دور تھا۔ انقلاب کسی خوشحال معاشرے میں نہیں بلکہ اس وقت برپا ہوا جب پرانا نظام اپنی موت آپ مر رہا تھا۔ یہ کہنا کہ ”سب کچھ پہلے جیسا رہتا“ دراصل عوام کو دوبارہ اسی جاگیردارانہ غلامی اور پسماندگی کی طرف دھکیلنے کی خواہش ہے جسے انقلاب نے چیلنج کیا تھا۔
طبقاتی اشرافیہ کا تحفظ اور ”پرچمی“ تسلسل
ولی خان کی قیادت میں کالعدم نیشنل عوامی پارٹی (NAP) کا رویہ ثور انقلاب کے حوالے سے خالصتاً طبقاتی اور گروہی مفادات پر مبنی تھا۔ انہوں نے انقلاب کے ”خلق“ دھڑے کی مخالفت محض اس لیے کی کیونکہ اس کی قیادت (نور محمد ترکئی اور حفیظ اللہ امین) نچلے درمیانے طبقے اور دیہاتی پس منظر سے تعلق رکھتی تھی، جبکہ اس سے اہم خلق دھڑا سٹالنسٹ بیوروکریسی کا دم چھلا نہیں تھا۔ جبکہ خلق پارٹی کی جانب سے زمینوں کی تقسیمِ نو اور قبائلی سرداری نظام پر ضرب نے پشتون اشرافیہ کے طبقاتی مفادات کو براہِ راست خطرے میں ڈال دیا تھا۔
کالعدم این اے پی کی قیادت ”پرچم“ دھڑے کو سردار داؤد خان کے اقتدار کا ایک فطری تسلسل سمجھتے تھے، کیونکہ دونوں کا تعلق کابل کی اسی شہری اشرافیہ اور مقتدرہ سے تھا جس کے ساتھ ولی خان کے سیاسی و سماجی مراسم تھے۔ جب سوویت مداخلت کے ذریعے ببرک کارمل (جو پرچم دھڑے کے نمائندے تھے) کو تخت پر بٹھایا گیا، تو ولی خان کے کیمپ میں اس کا جشن منایا گیا۔ اس دور کا مشہور نعرہ ”ورور دی ورور دی، ببرک د ولی ورور دی“ (ببرک ولی کا بھائی ہے) اس طبقاتی یگانگت کا واضح ثبوت تھا۔ مارکسی تجزیہ نگار اسے ”سوشل شاونزم“ قرار دیتے ہیں، جہاں انقلابی لبادے میں درحقیقت اپنی قوم کی اشرافیہ کے اقتدار کو دوام دیا گیا اور نچلے طبقے کی ”خلق“ قیادت کو نظریاتی دشمن سمجھ کر مسترد کر دیا گیا۔
پشتون قوم پرستی کا دوسرا کیمپ انتقامی سیاست اور ”امپورٹڈ“ حکومتوں کی سہولت کاری
محمود خان اچکزئی اور اس کے دھڑے کا رویہ مارکسی نقطہ نظر سے مزید گہرے تضادات کا شکار نظر آتا ہے۔ اس کی جانب سے ثور انقلاب کی ابتدائی حمایت کسی سائنسی اشتراکی نظریے یا طبقاتی ہمدردی پر مبنی نہیں تھی، بلکہ یہ خالصتاً ایک ”انتقامی جذبہ“ تھا۔ اس کی جڑیں اس تاریخی دشمنی میں پیوست تھیں جس میں اس کے والد عبدالصمد خان اچکزئی کی شہادت کا ذمہ دار سردار داؤد خان کو ٹھہرایا جاتا تھا۔ جب خلق پارٹی نے داؤد خان کے اقتدار کا تختہ الٹا، تو اچکزئی دھڑے نے اسے کسانوں اور مزدوروں کی فتح کی بجائے اپنے شخصی دشمن کی شکست کے طور پر قبول کیا۔
مارکسی فکر کے مطابق اس گروہ کی سیاست کا سب سے خطرناک پہلو اس کا مسلسل ”امپورٹڈ حکومتوں“ کا دستِ بازو بننا ہے۔ یہ حمایت صرف 1996ء سے 2001ء کے دور میں طالبان کو حاصل نہیں تھی۔ اس سے پہلے اور آج تک محمود خان اچکزئی کا دھڑا افغانستان پر مسلط کی جانے والی ہر بیرونی حمایت یافتہ حکومت کے ساتھ ہر موقع پر شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے۔ مارکسی اصطلاح میں یہ ”کمپراڈور بورژوازی“ (ایسا مراعات یافتہ طبقہ جو اپنے مفادات کے لیے بیرونی طاقتوں کا آلہ کار بنے) کا کلاسک نمونہ ہے۔ ایک طرف پشتون قوم پرستی کا نعرہ لگانا اور دوسری طرف بیرونی طاقتوں کے زیرِ اثر بننے والی حکومتوں کی چاکری کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ان کی سیاست کا محور عوامی فلاح یا انقلابی نظریہ نہیں، بلکہ صرف اقتدار کی راہداریوں تک رسائی اور مخصوص سیاسی و معاشی مفادات کا تحفظ تھا۔
مجموعی طور پر، ان دونوں قیادتوں نے ثور انقلاب اور بعد کے حالات کو ایک عالمگیر طبقاتی جدوجہد کے طور پر دیکھنے کی بجائے اسے اپنے مقامی، قبائلی اور شخصی مفادات کے ترازو میں تولا۔ اس وقت کے نیپ نے طبقاتی برتری اور اشرافیہ کے تسلسل (پرچم پسندی) کو ترجیح دی، جبکہ دوسرے گروپ نے شخصی انتقام اور بیرونی طاقتوں کی سہولت کاری کو سیاست کا محور بنایا۔ ان رویوں نے ثابت کیا کہ اس دور کی پشتون قوم پرستی سائنسی سوشلزم سے کوسوں دور ایک ایسی روایتی ”پاور پولیٹکس“ تھی جس نے بالآخر افغان انقلاب کے حقیقی عوامی اور طبقاتی مقاصد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
عالمی سامراجیت کی تشریح اور پیٹرو ڈالر جہاد
عالمی سامراج، بالخصوص امریکہ (CIA)، سعودی عرب اور پاکستان نے ثور انقلاب کو کچلنے کے لیے مذہب کا سہارا لیا۔ اس انقلاب کو ”لا دینیت“ اور ”کفر“ قرار دے کر ایک نام نہاد جہاد کا پروجیکٹ شروع کیا گیا، جس کی مالی معاونت پیٹرو ڈالرز سے کی گئی۔ درحقیقت یہ پروپیگنڈا کسی مذہبی ہمدردی پر نہیں بلکہ سامراجی مفادات پر مبنی تھا۔ امریکہ کو خطرہ تھا کہ اگر افغانستان میں ایک کامیاب سوشلسٹ ماڈل قائم ہو گیا تو پورے خطے سے سامراجی گرفت ختم ہو جائے گی۔ سی آئی اے کے تیار کردہ اس بیانیے نے افغان عوام کو ایک ایسی خانہ جنگی میں جھونک دیا جس کا ایندھن آج بھی یہ خطہ بن رہا ہے۔
سٹالنزم کی تشریح اور حفیظ اللہ امین کا کردار
سٹالنسٹ بیوروکریسی کی تشریح اس پورے عمل کی سب سے پیچیدہ اور المناک کڑی ہے۔ سوویت یونین کی قیادت (سٹالنسٹ بیوروکریسی) شروع ہی سے پی ڈی پی اے کے ”پرچم“ دھڑے کی پشت پناہی کر رہی تھی کیونکہ وہ ان کے اشاروں پر چلنے کے لیے تیار تھے۔ اس کے برعکس، ”خلق“ دھڑا اور بالخصوص حفیظ اللہ امین ایک آزادانہ انقلابی لائن رکھنے کی کوشش کر رہے تھے جو ماسکو کی بیوروکریسی کو ناگوار گزری۔ اپنے سیاسی مفادات کے لیے سٹالنسٹ مشینری نے حفیظ اللہ امین کے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا کہ وہ ”سی آئی اے کا ایجنٹ“ ہے۔ یہ ایک کلاسیکی سٹالنسٹ طریقہ کار تھا جس کے تحت ہر اس انقلابی کو غدار قرار دے دیا جاتا تھا جو ماسکو کے بیوروکریٹک حکم کو تسلیم نہ کرے۔ امین کو مجرم بنا کر پیش کرنا دراصل سوویت یونین کی اس مجرمانہ مداخلت کا جواز فراہم کرنا تھا جس نے بعد ازاں اپنی فوجیں اتار کر انقلاب کے فطری راستے کو مسدود کر دیا۔
قصہ مختصر یہ تمام تشریحات، خواہ وہ قوم پرستانہ ہوں، سامراجی ہوں یا سٹالنسٹ انقلابِ ثور کے اصل جوہر یعنی طبقاتی جدوجہد کو چھپانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کا مقصد عوام کو یہ یقین دلانا ہے کہ انقلاب ایک غلطی تھی، تاکہ مستقبل میں کسی بھی عوامی اٹھان کا راستہ روکا جا سکے۔
افغان ثور انقلاب اور انقلاب مسلسل کی ادھوری کہانی
افغان ثور انقلاب اور انقلابِ مسلسل کی بحث اس پورے عمل کا سب سے اہم نظریاتی پہلو ہے۔ لیون ٹراٹسکی کا ’انقلابِ مسلسل‘ (Permanent Revolution) کا نظریہ یہ واضح کرتا ہے کہ افغانستان جیسے پسماندہ ممالک میں، جہاں بورژوازی (سرمایہ دار طبقہ) اپنے تاریخی فرائض پورے کرنے میں ناکام ہو چکی ہو، وہاں جمہوری اور زرعی اصلاحات کی تکمیل صرف محنت کش طبقہ ہی کر سکتا ہے، جو ان اصلاحات کو سوشلسٹ اقدامات کے ساتھ جوڑتے ہوئے اقتدار کی منزل تک پہنچتا ہے۔ ثور انقلاب اور انقلابِ مسلسل کی ادھوری کہانی کو درج ذیل نکات میں سمجھا جا سکتا ہے۔
قومی جمہوری انقلاب بمقابلہ سوشلسٹ انقلاب
شروع سے ہی افغان انقلاب سٹالنزم کے ’مرحلہ وار انقلاب‘ (Stage Theory) کے نظریات کے تابع رہا، جس میں یہ بحث سرِ فہرست تھی کہ افغانستان ابھی صرف ایک ’قومی جمہوری انقلاب‘ کے لیے تیار ہے۔ تاہم، خلق پارٹی کی قیادت، بالخصوص نور محمد ترکئی اور حفیظ اللہ امین، لفظوں کی حد تک ہی سہی، اسے ایک ’سوشلسٹ انقلاب‘ کے طور پر پیش کرتے تھے اور اسے خطے کی مظلوم قومیتوں اور محکوم طبقات کا انقلاب گردانتے تھے۔ یہ تضاد دراصل سٹالنسٹ بیوروکریسی کی اس پالیسی کا نتیجہ تھا جو انقلاب کو صرف اپنے جغرافیائی اور سیاسی مفادات تک محدود رکھنا چاہتی تھی۔
محنت کش طبقے کی عدم موجودگی اور سماجی ساخت
افغانستان کی سماجی ساخت میں صنعتی محنت کش طبقے کی واضح کمی ایک بڑا فیکٹر تھی۔ انقلابِ مسلسل کا تقاضا ہے کہ انقلاب کی قیادت محنت کش طبقہ کرے اور اسے خطے کے دیگر ممالک کے محنت کشوں کی جدوجہد سے جوڑا جائے۔ افغانستان میں محنت کش طبقے کی اس کمزوری کی وجہ سے انقلاب کی اپیل خطے کے دیگر طبقات تک اس طرح نہ پہنچ سکی جس طرح ہونی چاہیے تھی۔ مزید برآں، خارجہ پالیسی مکمل طور پر سوویت بیوروکریسی کے زیرِ عتاب تھی، جس نے انقلاب کو بین الاقوامی سطح پر پھیلانے کی بجائے اسے ایک ریاست تک محدود (Socialism in one country) کر کے مفلوج کر دیا۔
جمہوری کمیٹیوں کا فقدان اور پارٹی بیوروکریسی
انقلابِ مسلسل کا سب سے اہم ستون یہ ہے کہ اقتدار محنت کشوں، کسانوں اور نوجوانوں کی جمہوری طور پر منتخب کردہ ’کمیٹیوں‘ (Soviets) کے پاس ہونا چاہیے۔ لیکن افغانستان میں خلق پارٹی کی جڑیں پورے ملک میں اس طرح موجود نہیں تھیں کہ وہ عوامی طاقت کو منظم کر سکیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اقتدار عوام کی جمہوری کمیٹیوں کی بجائے پارٹی بیوروکریسی کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ جب اقتدار عوام کے براہِ راست کنٹرول میں نہ ہو، تو وہ بیوروکریٹک بوجھ تلے دب کر اپنی عوامی حمایت کھو دیتا ہے اور یہی افغانستان میں بھی ہوا۔
ثور انقلاب پرولتاری بوناپارٹسٹ انقلاب کیوں تھا؟
جیسے تحریر کے آغاز میں ذکر کیا گیا ہے کہ افغانستان کا ثور انقلاب محض ایک حادثاتی بغاوت یا محدود فوجی اقدام نہیں تھا، بلکہ یہ اس سماج کے اندر پکنے والے گہرے تضادات کا ایک دھماکہ تھا، ایسا سماج جہاں صدیوں پرانے جاگیردارانہ رشتے، قبائلی جبر اور سامراجی شکنجے نے محنت کش عوام کی زندگی کو جکڑ رکھا تھا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ایک تلخ حقیقت تھی کہ اس سرزمین پر جدید پرولتاریہ ابھی اپنی مکمل تاریخی قوت کے ساتھ ابھر نہیں سکا تھا۔ یہی وہ خلا تھا جس میں پی ڈی پی اے اور اس سے جڑی ریاستی و فوجی پرتیں آگے بڑھیں اور انہوں نے تاریخ کا پہیہ آگے دھکیلنے کی کوشش کی۔

یہاں سے اس انقلاب کی دوہری فطرت جنم لیتی ہے۔ جسے مارکسی اصطلاح میں پرولتاری بوناپارٹسٹ انقلاب کہتے ہیں۔ ایک طرف یہ ایسا انقلاب تھا، جس نے زمین کے سوال کو چھیڑا، صدیوں پرانی سماجی زنجیروں کو توڑنے کی جسارت کی، عورت کو گھٹن زدہ روایتوں سے نکال کر سماجی زندگی میں لانے کی کوشش کی اور تعلیم کو اشرافیہ کی جاگیر سے نکال کر عوام کا حق بنانے کا آغاز کیا۔ مگر دوسری طرف، یہ سب کچھ اس انداز میں ہوا کہ خود وہ عوام، محنت کش اور کسان جن کے نام پر یہ سب کیا جا رہا تھا، اقتدار کے حقیقی عمل سے باہر ہی رہے۔
یوں ہی ڈی پی اے کی حکومت ایک ایسے ”ثالث“ کے طور پر ابھری جو بظاہر سماج کو آگے لے جا رہی تھی، مگر درحقیقت خود کو اس کے اوپر مسلط بھی کر رہی تھی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ثور انقلاب اپنی بوناپارٹسٹ شکل اختیار کرتا ہے: یعنی ایک ایسا انقلاب جو پرانے نظام پر ضرب تو لگاتا ہے، مگر نئے سماج کی تعمیر میں عوام کی براہِ راست، جمہوری شرکت کو محدود رکھتا ہے۔ اس میں پرولتاری عناصر موجود تھے، مگر پرولتاری جمہوریت غائب تھی۔ یہی تضاد اس انقلاب کی طاقت بھی تھا اور اس کی کمزوری بھی۔ طاقت اس لیے کہ اس نے تاریخ کو آگے بڑھایا اور کمزوری اس لیے کہ وہ عوامی بنیادوں پر خود کو مستحکم نہ کر سکا۔ چنانچہ جب اندرونی خلفشار اور بیرونی سامراجی یلغار کا سامنا ہوا، تو یہ انقلاب اپنی اسی کمزوری کے بوجھ تلے لڑکھڑا گیا۔
مارکسزم کے سچے نظریات کی ضرورت
انقلاب کو بچانے اور اسے آگے بڑھانے کے لیے سٹالنزم کے جمود زدہ نظریات کے برعکس مارکسزم کے سچے اور انقلابی نظریات کی ضرورت ایک ناگزیر عمل تھا۔ سٹالنسٹ بیوروکریسی کی غداریوں اور سامراجی مداخلت نے اس انقلابی عمل کو ادھورا چھوڑ دیا۔ اگر اقتدار عوامی کمیٹیوں کے پاس ہوتا اور اسے خطے کے دیگر محنت کشوں کے ساتھ جوڑ دیا جاتا، تو شاید تاریخ کا رخ مختلف ہوتا۔ مختصر یہ کہ ثور انقلاب ایک بہت بڑی پیشرفت تو تھی، لیکن نظریاتی طور پر ’انقلابِ مسلسل‘ کی شرائط پوری نہ ہونے اور سٹالنسٹ مداخلت کی وجہ سے یہ ایک ادھوری کہانی بن کر رہ گیا، جس کا خمیازہ آج کا افغانستان بھگت رہا ہے۔
سامراجیت کی یلغار اور افغان معاشرے کی بربادی
افغان ثور انقلاب پر دو بڑے حملے ہوئے، جن میں سب سے پہلا اور مہلک ترین حملہ عالمی سامراجیت کی یلغار تھی۔ سامراجی قوتوں نے جن بنیادوں پر اس انقلاب کو خون میں ڈبونے کے لیے اقدامات کیے، ان کا خمیازہ آج بھی افغانستان کا محنت کش طبقہ اور عام عوام بھگت رہے ہیں۔
امریکی سامراج نے دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا بھر میں انتہائی رجعتی اور انسان دشمن کردار ادا کیا ہے۔ افغانستان میں جب ایک ترقی پسند اور سوشلسٹ رجحان رکھنے والا انقلاب برپا ہوا، تو امریکہ نے اسے اپنے عالمی مفادات کے لیے خطرہ محسوس کیا۔ اس انقلاب کو کچلنے کے لیے امریکہ نے اپنی دلال ریاستوں، بالخصوص پاکستان اور سعودی عرب کو فرنٹ لائن کے طور پر استعمال کیا۔ سی آئی اے کے ’آپریشن سائیکلون‘ کے تحت اربوں ڈالر اور جدید اسلحہ اس خطے میں جھونکا گیا تاکہ ایک ایسی رجعتی قوت تیار کی جا سکے جو جدیدیت اور سوشلزم کا راستہ روک سکے۔
اس دور کا ایک المناک پہلو سوویت یونین اور چین کے آپسی تضادات تھے۔ ان نظریاتی اور سیاسی اختلافات کی وجہ سے چین نے بھی افغان ثور انقلاب کے خلاف امریکی کیمپ کا ساتھ دیا اور ”مجاہدین“ کی سپورٹ کی۔ یہ کمیونسٹ تحریک کے اندر موجود سٹالنسٹ تضادات کا شاخسانہ تھا، جس نے ایک انقلابی ریاست کو بچانے کی بجائے اسے سامراجی گِدھوں کے سامنے ڈال دیا۔

سامراجی سرپرستی میں تیار ہونے والے ان ”مجاہدین“ نے افغان سماج میں جو تباہی مچائی، اس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔ سکولوں کو جلایا گیا، ہسپتالوں کو مسمار کیا گیا اور ہر اس شخص کو نشانہ بنایا گیا جو ترقی اور تعلیم کی بات کرتا تھا۔ یہ بربادی ڈاکٹر نجیب اللہ کے دور تک جاری رہی اور بالاآخر اس کی وحشیانہ شہادت پر منتج ہوئی۔ سامراجی پروجیکٹ نے پورے افغان سماج کو، جو کبھی جدیدیت کی راہ پر گامزن تھا، زبردستی پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا۔ عورتوں کو گھروں میں قید کر دیا گیا اور علم و ہنر کی جگہ بندوق اور انتہا پسندی نے لے لی۔
امریکی سامراج کے ان عزائم کا مقصد انسانیت کی فلاح نہیں بلکہ سرمایہ دار طبقے کی منافع خوری اور عیاشیوں میں اضافہ کرنا تھا۔ اسلحہ ساز کمپنیوں کے منافع اور تزویراتی (Strategic) غلبے کے لیے لاکھوں افغانوں کا خون بہایا گیا۔ آج افغانستان پر جو طالبان مسلط ہیں، وہ بھی اسی سامراجی پروجیکٹ کا تسلسل اور شاخسانہ ہیں۔ طالبان اور ان جیسے دیگر رجعتی گروہ دراصل اسی بوئی ہوئی فصل کا حصہ ہیں جسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ثور انقلاب کو ختم کرنے کے لیے لگایا تھا۔
یہ یلغار محض ایک فوجی مداخلت نہیں تھی بلکہ ایک پورے تہذیبی اور طبقاتی ارتقاء کو روکنے کی مجرمانہ کوشش تھی، جس کے نتیجے میں آج کا افغانستان ایک کھنڈر اور عالمی سامراج کا قید خانہ بن چکا ہے۔
سوویت یونین کا مجرمانہ کردار
ثور انقلاب کی تاریخ میں سوویت یونین کی مداخلت ایک ایسا زخم ہے جس نے نہ صرف ایک ابھرتے ہوئے انقلاب کا گلا گھونٹ دیا بلکہ پورے خطے کو دہائیوں کی تاریکی میں دھکیل دیا۔ یہاں ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ اگر سوویت یونین کی سٹالنسٹ بیوروکریسی دھڑے بندیوں سے بالاتر ہو کر افغانستان کی انقلابی حکومت کا غیر مشروط دفاع کرتی اور ان کا صحیح معنوں میں ساتھ دیتی، تو اس کے اثرات کیا ہو سکتے تھے؟ سوویت یونین اگرچہ خود معاشی زوال کی سمت بڑھ رہا تھا، لیکن اس کے باوجود افغانستان جیسے چھوٹے اور پسماندہ ملک کی پشت پناہی کرنا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہ تھا۔ لیکن سوویت قیادت نے ایک مددگار کی بجائے ایک قاتلانہ کردار ادا کیا۔
سوویت بیوروکریسی نے شروع ہی سے پی ڈی پی اے کے پرچم دھڑے کی سرپرستی کی، کیونکہ وہ ماسکو کے اشاروں پر چلنے والے سیاسی مہرے تھے۔ اس کے برعکس خلق پارٹی، جو کہ پرچم دھڑے کی نسبت زیادہ عوامی بنیادیں رکھتی تھی، سوویت مداخلت کے خلاف ایک خود مختار انقلابی لائن پر یقین رکھتی تھی۔ سوویت یونین نے پہلے نور محمد ترہ کئی کے قتل کے حالات پیدا کیے اور پھر تاریخ کے بدترین جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے منتخب صدر حفیظ اللہ امین کو صدارتی محل میں خاندان سمیت شہید کر دیا۔ حفیظ اللہ امین کو سی آئی اے کا ایجنٹ قرار دینا ایک ایسا سفید جھوٹ تھا جس کا مقصد اپنی ننگی جارحیت کو چھپانا تھا۔ حفیظ اللہ امین کے قتل کے بعد، سوویت یونین نے اپنے وفادار ببرک کارمل کو روس سے لا کر کابل کے تخت پر بٹھایا، جسے افغان عوام تاریخ کا دوسرا شاہ شجاع قرار دیتے ہیں۔ ببرک کارمل نے اقتدار سنبھالتے ہی خلق پارٹی کے تمام انقلابی احکامات اور عوامی اصلاحات کو رول بیک کرنا شروع کر دیا۔ اس کی تمام تر توجہ خلق پارٹی کے مخلص کارکنوں کو چن چن کر مارنے اور سوویت آقاؤں کے دم چھلے بن کر رہنے پر تھی۔
سوویت یونین نے 1979ء میں افغانستان میں اپنی فوجی مداخلت کو بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اصولوں کے لبادے میں چھپانے کی بھرپور کوشش کی۔ ان کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ یہ کوئی جارحیت یا قبضہ نہیں ہے، بلکہ ایک دوست ملک کی درخواست پر کی جانے والی ایک محدود فوجی کاروائی ہے۔ کریملن نے اس اقدام کو جائز ثابت کرنے کے لیے سب سے بڑی دلیل یہ دی کہ کابل میں موجود اشتراکی حکومت نے ملک میں بڑھتی ہوئی خانہ جنگی سے نمٹنے کے لیے سوویت یونین سے درجنوں بار تحریری طور پر فوجی مدد طلب کی تھی۔ انہوں نے برژنیف نظریے کا سہارا لیا، جس کے مطابق کسی بھی ملک میں سوشلسٹ نظام کا تحفظ پوری عالمی سوشلسٹ برادری کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ لیکن تضاد یہ تھا کہ وہ جس حکومت کو بچانے کے بہانے آئے تھے، اسی کے منتخب سربراہ کو انہوں نے قتل کر دیا۔ اس مداخلت نے بیرونی دشمنوں یعنی امریکی سامراج، پاکستان اور سعودی عرب کے لیے کام آسان کر دیا، جنہوں نے اس فوجی قبضے کو بنیاد بنا کر ردِ انقلاب کی تحریک کو ہوا دی۔
سوویت یونین کی اس مداخلت کی مذمت کرنا ہر انقلابی کارکن کی ذمہ داری ہے کیونکہ اس نے انقلاب کو اندر سے ختم کیا۔ اگر سوویت یونین دھڑے بندیوں سے بالا تر ہو کر صرف تکنیکی اور سیکیورٹی امداد فراہم کرتا، تو افغانستان کی انقلابی فوج سامراجی دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی تھی۔ خلق پارٹی کی قیادت نے بارہا ماسکو سے ملاقاتوں میں یہی مطالبہ کیا تھا کہ سوویت یونین افغانستان کے چند بڑے شہروں کی اندرونی سیکیورٹی سنبھال لے تاکہ انقلابی فوج سرحدوں پر سامراجی ایجنٹوں کا صفایا کر سکے، جس کی مثالیں 1979ء کی ہرات بغاوت میں ملتی ہیں جہاں انقلابیوں نے سامراجی بھگوڑوں کو شکست دی تھی۔ اگر سوویت یونین غداری نہ کرتا تو آج افغانستان ان تاریک راستوں پر بھٹکنے کی بجائے شاید کیوبا کی طرح ایک ایسی راہ پر گامزن ہو جاتا جہاں بھوک، جہالت اور پسماندگی کے اندھیرے بتدریج چھٹنے لگتے۔ کیوبا نے دنیا کی سب سے بڑی سامراجی طاقت کی مسلسل دشمنی، پابندیوں اور سازشوں کے باوجود اپنے عوام کو تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات کی فراہمی میں ایک حد تک کامیابی سے ہمکنار کیا۔ یہی وہ امکان تھا جو ثور انقلاب کے بعد افغانستان کی خاک میں بھی پنپ سکتا تھا، ایک ایسا امکان جو محنت کشوں اور کسانوں کی محنت سے ایک نئے سماج کی بنیاد رکھ سکتا تھا۔
لیکن تاریخ صرف امکانات سے نہیں بنتی، بلکہ ان قوتوں سے بنتی ہے جو ان امکانات کو یا تو پروان چڑھاتی ہیں یا کچل دیتی ہیں۔ یہاں سوویت یونین کا کردار ایک پیچیدہ اور متضاد شکل میں سامنے آتا ہے۔ ایک طرف وہ سامراجی یلغار کے خلاف ایک ڈھال بن کر ابھرا، مگر دوسری طرف اس کی مداخلت اپنے اندر ایک بیوروکریٹک بوجھ بھی لے کر آئی۔ اگر یہی مدد ایک مختلف بنیاد پر استوار ہوتی، اگر یہ غیر مشروط ہوتی، اگر یہ افغان عوام کی اپنی ابھرتی ہوئی قوتوں، ان کی اپنے سوویتوں، ان کی اپنی تنظیموں کو پروان چڑھانے کے لیے دی جاتی، تو شاید تاریخ کا دھارا کچھ اور ہوتا۔ شاید انقلاب محض اوپر سے نافذ ہونے والا عمل نہ رہتا بلکہ نیچے سے پھوٹنے والی ایک زندہ حقیقت بن جاتا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک پسماندہ، نیم سرمایہ دارانہ اور نیم جاگیردارانہ سماج میں انقلاب کو صرف اسلحے سے نہیں، بلکہ شعور، تنظیم اور بین الاقوامی یکجہتی سے جیتا جاتا ہے۔ اگر سوویت یونین اس بنیاد پر افغانستان کے ساتھ کھڑا ہوتا، بطور ایک انقلابی ساتھی، نہ کہ ایک بالا دست سرپرست، تو نہ صرف انقلاب اپنی جڑیں گہری کرتا بلکہ وہ خطے کی سرحدوں کو بھی چیلنج کر سکتا تھا۔ اس صورت میں یہ امکان موجود تھا کہ یہ عمل ایک حقیقی سوویت جمہوریت کی طرف بڑھتا، جہاں اقتدار کا سرچشمہ عوام ہوتے، نہ کہ کوئی محدود بیوروکریسی۔
آج جب ہم کیوبا کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک ایسا عمل نظر آتا ہے جس نے بے شمار مشکلات کے باوجود تاریخ میں اپنی جگہ بنائی، مگر جو اب اپنی حدود اور تضادات کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے۔ گو کہ ہم غیر مشروط طور پر اس کے انقلاب کا دفاع کرتے ہیں، مگر اسے ایک مکمل ماڈل نہیں سمجھتے۔ اسی طرح افغانستان کے ثور انقلاب کو بھی ہمیں نہ تو رومانوی انداز میں دیکھنا چاہیے اور نہ ہی یکسر رد کرنا چاہیے، بلکہ اسے ایک ایسے تاریخی تجربے کے طور پر سمجھنا چاہیے جس میں عظیم امکانات بھی تھے اور سنگین کمزوریاں بھی۔ انہی تضادات کے بیچ مستقبل کے انقلابات کے لیے راستہ تلاش کرنا ہی ہمارا اصل فریضہ ہے۔ سوویت مداخلت نے سامراجیت کو وہ اخلاقی جواز فراہم کیا جس پر انہوں نے جہاد کا ڈھونگ رچایا، جس کے نتیجے میں آج کے طالبان جیسے رجعتی گروہ پیدا ہوئے۔ سوویت یونین کا یہ کردار افغان عوام کے ساتھ ایک ایسی تاریخی غداری ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
ثور انقلاب اور آج کا افغانستان
افغانستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس سرزمین پر عوامی اور ترقی پسند تبدیلی کی کوشش کی گئی، سامراجی قوتوں نے اسے اپنے دلالوں کے ذریعے کچلنے کی مجرمانہ کوشش کی۔ گزشتہ صدی کے آغاز میں غازی امان اللہ خان نے جب جدیدیت کی بنیاد رکھنی چاہی، تو برطانوی سامراج نے ایک لٹیرے کو تخت پر بٹھا کر اس عمل کو سبوتاژ کیا۔ ظاہر شاہ کے طویل دور میں ملک کو جان بوجھ کر پسماندگی اور عالمی تنہائی میں رکھا گیا، لیکن 1978ء کے ثور انقلاب نے پہلی بار محنت کشوں اور مظلوم طبقات کو اقتدار کا اصل وارث بنانے کی ٹھوس کوشش کی۔
ثور انقلاب کے بعد سے لے کر آج تک افغانستان پر مسلط ہونے والی تمام حکومتیں ایکسپورٹڈ اور امپورٹڈ رہی ہیں۔ یہاں یہ حقیقت واضح کرنا ضروری ہے کہ حفیظ اللہ امین کی شہادت کے بعد ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومتیں بھی سوویت یونین کی جانب سے امپورٹڈ تھیں، جنہیں عوامی امنگوں کی بجائے ماسکو کی بیوروکریٹک ضرورتوں کے تحت مسلط کیا گیا۔ ان حکومتوں نے انقلاب کے حقیقی جوہر کو ختم کر کے اسے بیرونی بیساکھیوں پر کھڑا کیا، جس کا فائدہ بعد ازاں سامراجی قوتوں نے اٹھایا۔ 2001ء کے بعد کا امریکی کٹھ پتلی راج ہو یا آج کے طالبان، یہ سب سامراجی آشیرباد اور ان کے مفادات کی پیداوار ہیں۔ 2001ء سے اب تک کا بیلنس شیٹ یہ بتاتا ہے کہ افغان عوام ان امپورٹڈ دلالوں سے کبھی خوش نہیں رہے، بلکہ یہ تمام حکومتیں ان پر جبراً مسلط کی گئیں۔
طالبان کا جھوٹا غرور اور پاکستان کے ساتھ چپقلش
گزشتہ ڈھائی سالوں سے طالبان اور ریاستِ پاکستان کے درمیان جاری شدید چپقلش اور پاکستان کی جانب سے ہونے والے حملوں کی گو کہ ہم شدید مذمت اور بھرپور مخالفت کرتے ہیں، مگر ان حملوں نے جہاں ریاستِ پاکستان کی سامراجی پالیسیوں کو بے نقاب کیا، وہاں طالبان کے مضبوط دھڑوں کا ریاستِ پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا وہ تعلق یا ظاہری تضاد بھی عیاں کر دیا ہے جو مصلحت اور مفادات پر مبنی ہے۔
16مارچ کو کابل پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں 400 کے قریب معصوم لوگوں کے قتل عام نے طالبان قیادت کی بے بسی اور منافقت کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا۔ اس ہولناک واقعے کے باوجود طالبان کی اعلیٰ قیادت کا رویہ انتہائی معذرت خواہانہ رہا۔ ایک طرف سراج الدین حقانی کا یہ کہنا کہ ”پاکستان کے خلاف ہمارا کوئی انتقامی جذبہ نہیں ہے“ اور دوسری طرف شیخ ہیبت اللہ کا محض یہ روایتی بیان کہ ”مارنے سے ہم ختم نہیں ہوں گے“، اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ طالبان کے مضبوط دھڑے اب بھی پاکستانی ریاست کے ساتھ اپنے تزویراتی (Strategic) تعلق کو مکمل طور پر توڑنے کے لیے تیار نہیں، یا ایسا کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔
یہ صورتحال اس وسیع تر پس منظر میں دیکھی جانی چاہیے جہاں خطے میں امریکی سامراج کے زوال کے بعد طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔ امریکی انخلاء نے اس خطے میں اپنے پیچھے جن گماشتہ ریاستوں کو چھوڑا ہے، وہ اب نئے سامراجی الائنسز کی تشکیل کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔ ریاستِ پاکستان کی بدلتی ہوئی حیثیت اور خطے میں نئے اتحادوں کی تلاش دراصل اسی سامراجی گماشتہ گردی کا تسلسل ہے۔ طالبان کی قیادت اسی سامراجی ڈھانچے کا ایک حصہ ہے جسے دوحہ معاہدے کے تحت ایک خاص مقصد کے لیے اقتدار سونپا گیا تھا۔
ان حملوں نے طالبان کے اس جھوٹے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے کہ انہوں نے کسی قسم کی ”آزادی کی جنگ“ جیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت سے نہیں بلکہ سامراجی ڈیل کے تحت لائے گئے ہیں، جس میں پاکستان کا کردار کلیدی رہا ہے۔ حالیہ سرحدی کشیدگی اور جنگی صورتحال محض دو رجعتی قوتوں اور سامراجی گماشتوں کے آپسی تضادات کا شاخسانہ ہے، جہاں ایک طرف قیادت کے مضبوط دھڑے اپنے پرانے آقاؤں سے وفاداری نبھا رہے ہیں اور دوسری طرف زمینی حقائق انہیں ٹکراؤ پر مجبور کر رہے ہیں۔ اس پوری سامراجی بساط پر افغان عوام کا کوئی مفاد نہیں، وہ صرف ان گماشتوں کی آپسی لڑائی اور مفادات کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پروپیگنڈا اور معاشی حقائق
طالبان کی خارجہ پالیسی اور سوشل میڈیا پر چلنے والے مختلف انفراسٹرکچر اور معاشی منصوبوں کے حوالے سے جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا دراصل ان کی اندرونی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے۔ میڈیا پر دکھائے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کے برعکس، افغانستان کی معیشت آج وینٹی لیٹر سے بھی گئی گزری حالت پر ہے، جہاں عام آدمی دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے۔ ان کی نام نہاد ”خود مختار“ خارجہ پالیسی دراصل مختلف علاقائی اور عالمی طاقتوں کے سامنے افغانستان کے وسائل لوٹنے کی سودے بازی کا نام ہے تاکہ ان کی غیر قانونی حکومت کو دوام مل سکے۔
پشتون قوم پرستوں کا منافقانہ کردار
یہاں ان چند پشتون قوم پرستوں کے مؤقف کو بے نقاب کرنا بھی ضروری ہے جو ایک طرف تو قوم پرستی کا دم بھرتے ہیں لیکن دوسری طرف طالبان کی رجعت پسندی کے حوالے سے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہیں یا انہیں ”پشتون مزاحمت“ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ قوم پرست دراصل طالبان کے رجعتی اور غیر جمہوری کردار پر پردہ ڈال کر پشتون عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ طالبان کا نظام افغانستان کے پشتونوں سمیت تمام مظلوم قومیتوں کے لیے ایک جیل سے کم نہیں ہے۔
حرفِ آخر: انقلابی حل
بحث کو سمیٹتے ہوئے ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بطور کمیونسٹ ہمارا رول ماڈل 1917ء کا عظیم بالشویک انقلاب ہے، جس نے پہلی بار انسانی تاریخ میں محنت کش طبقے کی شعوری طاقت کے ذریعے سامراجی اور طبقاتی زنجیروں کو پاش پاش کیا۔ ہم ثور انقلاب کو اس کے تمام تر تاریخی نقائص، تنظیمی کمزوریوں اور غلطیوں کے باوجود اسی تاریخی تسلسل میں آگے کی جانب ایک اہم قدم اور خطے کے محنت کشوں کی ایک عظیم جست قرار دیتے ہیں اور اس کا غیر مشروط دفاع اپنا انقلابی فریضہ سمجھتے ہیں۔

آج کے سنگین حالات کا واحد حل ثور انقلاب کے اس ادھورے سفر کو بالشویک انقلاب کی عظیم روایات اور معیاری پیمانوں سے جوڑنے میں ہے۔ ثور انقلاب ایک اہم مگر محدود تجربہ تھا، جسے اب اس کی تاریخی کمزوریوں سے پاک کر کے دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کی نسل، جو سامراجی یلغار اور مجاہدین کی بربریت کے دور سے ناآشنا ہے، اس کے سامنے صرف ایک ہی فوری دشمن ہے جو طالبان کی شکل میں موجود ہے۔ اس رجعتی دشمن کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب افغانستان کے محنت کش اور نوجوان اپنے اقتدار کو بالشویکی طرز پر اپنی منتخب عوامی کمیٹیوں (سوویتوں) کے ذریعے منظم کریں اور اپنی اس جدوجہد کو خطے کے دیگر ممالک، بالخصوص پاکستان اور ایران کے محنت کشوں کی طبقاتی تحریکوں کے ساتھ جوڑ دیں۔
یہی وہ تاریخی فریضہ اور ثور انقلاب کا وہ ادھورا خواب ہے جسے بالشویک انقلاب کے سائنسی نظریات کی روشنی میں مکمل کرنا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ تاریخ کا پہیہ صرف تبھی آگے بڑھے گا جب اقتدار براہِ راست محنت کش طبقے کے ہاتھوں میں ہو گا، نہ کہ کسی سامراجی گماشتے یا رجعتی ٹولے کے پاس۔