|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی|
گلگت بلتستان عوامی ایکشن کمیٹی کے قائد احسان علی ایڈووکیٹ اور دیگر راہنما گزشتہ دو مہینے سے پولیس کی حراست میں ہیں اور ان پر دہشت گردی کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ہے۔ حراست کے دوران ان کو بد ترین حالات میں رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور ان پر عوامی حقوق کی تحریک سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں گلگت بلتستان کے عوام میں شدید بے چینی اور غصہ پایا جاتا ہے لیکن پورے خطے میں خوف اور جبر کا ماحول بنایا گیا ہے جس کے باعث لوگوں کو احتجاج کرنے سے زبردستی روکا جا رہا ہے اور ان کے تمام جمہوری حقوق سلب کر لیے گئے ہیں۔
اس بد ترین جبر کے باوجود ہنزہ کے غیور عوام نے 4 مئی کو علی آباد میں احتجاج کا آغاز کیا جس میں خواتین بھی شامل تھیں۔ اس احتجاج میں ایک سو کے قریب افراد شامل تھے جنہوں نے احتجاج کے بعد شاہراہِ قراقرم پر دھرنا دے دیا اور مطالبہ کیا کہ جب تک عوامی تحریک کے قائدین کو رہا نہیں کیا جائے گا تب تک اس سڑک کو کھولا نہیں جائے گا۔
اس موقع پر ضلع نگر اور دیگر علاقوں سے وفود بھی اس دھرنے میں شامل ہوئے اور وقت کے ساتھ یہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر رہا تھا۔ اس موقع پر اسماعیلی کونسل کی جانب سے دھرنے کے شرکا پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ سڑک کو کھول دیں اور یقین دہانی بھی کروائی گئی کہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی اور اگر کی گئی تو وہ مظاہرین کا ساتھ دیں گے اور تمام قائدین کی رہائی کا مطالبہ کریں گے۔ رات 12بجے کے قریب مظاہرین نے سڑک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا لیکن سڑک کے کنارے پر دھرنا جاری رکھا۔
لیکن اگلے دن علی الصبح جب شرکا کی تعداد کم تھی اس وقت پولیس نے دھرنے پر دھاوا بولا اور تمام کیمپ اکھاڑ دیے جبکہ تین مظاہرین کو گرفتار کر لیا جن میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان تحسین جاوید، فضل اور سہیل شامل ہیں۔ گرفتاری کے بعد ان کو گلگت میں انسداد دہشت گردی کے تھانے میں منتقل کر دیا گیا۔ اس وقت علی آباد تھانے میں ایک مقدمے کا اندراج بھی کیا گیا جس میں ان مظاہرین سمیت دیگر پارٹیوں کے کارکنان کو بھی نامزد کیا گیا اور ان پر دہشت گردی کی دفعات لگائی گئیں۔ اس کے بعد ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے گئے اور پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا گیا۔
یہ بد ترین ریاستی جبر اس موقع پر کیا جا رہا ہے جب گلگت بلتستان میں انتخابات کا ناٹک رچایا جا رہا ہے اور عوام کو جمہوریت کا جھانسہ دیا جا رہا ہے۔ موجودہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ گلگت بلتستان میں عوام کو بنیادی ترین جمہوری حقوق بھی حاصل نہیں اور سستے آٹے اور بجلی کے حق کے لیے آواز اٹھانے والے کو دہشت گرد قرار دے کر جیل میں بند کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان عوامی قائدین کی رہائی کے لیے جو آواز بلند کرتا ہے اسے بھی دہشت گرد قرار دے کر گرفتار کیا جاتا ہے۔ ایسے جبر کے ماحول میں الیکشن ایک ڈرامے کے سوا کچھ نہیں اور یہ واضح ہو چکا ہے کہ ان الیکشنوں میں حصہ لینے والی عوام دشمن پارٹیاں حکمران طبقے کی آلہ کار ہیں جو عوام پر کیے جانے والے جبر میں شامل ہیں۔ یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ عوام اپنی بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے الیکشن یا کسی پارلیمنٹ پر انحصا رنہیں کر سکتے بلکہ انہیں عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ہی جدوجہد کرنی ہو گی۔ پہلے بھی عوام کے لیے آٹے اور بجلی سے لے کر صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے عوامی ایکشن کمیٹی نے ہی جدوجہد کی ہے جبکہ نام نہاد پارلیمنٹ، بیوروکریسی اور سرمایہ دار صرف اس خطے کے وسائل لوٹ رہے ہیں اور عوام کو غلام بنا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں گلگت بلتستان کے عوام موجودہ ریاسی جبر پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور گرفتاریوں کے باوجود عوامی قائدین کی رہائی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ ہنزہ سمیت تمام اضلاع میں پولیس اور ریاستی اداروں کے جبر کے باوجود مزید احتجاج اور دھرنے منظم کیے جائیں گے اور اسیران کی رہائی کے لیے کوششیں تیز کی جائیں گی۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی اس ریاستی جبر کی شدید مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ تمام اسیران کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور عوامی لیڈروں پر ظلم کرنے والے افراد کو سزائیں دی جائیں۔ اس کے علاوہ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام مطالبات تسلیم کرتے ہوئے عوام کو تمام بنیادی ضروریات فوری طور پر فراہم کی جائیں اور گلگت بلتستان پر قومی جبر کا خاتمہ کیا جائے۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی احسان علی ایڈووکیٹ اور دیگر قائدین کی رہائی کے لیے احتجاج منظم کیے جا رہے ہیں۔ یوم مئی پر انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے کراچی سے لے کر لاہور اور پشاور تک مختلف شہروں میں مزدوروں کی ریلیوں کے دوران ان قائدین کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا اور اس حوالے سے قراردادیں پیش کی گئیں جنہیں متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ آنے والے دنوں میں مزید احتجاج منظم کیے جائیں گے اور مزدور تنظیموں سے یکجہتی کی اپیلیں کی جائیں گی۔
انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کی جانب سے پہلے ہی دنیا بھر میں ا س حوالے سے احتجاج منظم کیے جا رہے ہیں اور ان ممالک میں موجود پاکستان کے سفارت خانوں کے باہر درجنوں ممالک کے مختلف شہروں میں کئی دفعہ احتجاج کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ یورپ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں مزدور تنظیموں سے یکجہتی کی اپیلیں کی جا رہی ہیں کہ وہ پاکستان کی ریاست کے اس جبر کے خلاف احتجاج کریں اور پاکستانی سفارت خانوں کو خط لکھیں۔ اس دوران بہت سے معروف سیاست دانوں، مزدور لیڈروں اور بائیں بازو کے کارکنوں نے یکجہتی کا اعلان کیا ہے جس کی تفصیل اس ویب سائٹ پر موجود ہے۔ pakistansolidarity.org
آنے والے دنوں میں اس حتجاجی تحریک کو بھی مزید تیز کیا جائے گا اور عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام اسیران کی رہائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
تیز ہو، تیز ہو، جدوجہد تیز ہو!
گلگت بلتستان میں ریاستی جبر مردہ باد!
عوامی ایکشن کمیٹی زندہ باد!
دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ!
