لاہور: یومِ مئی کے موقع پر انقلابی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے مختلف تقریبات کا انعقاد

|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، لاہور|

2026ء میں یومِ مئی پوری دنیا میں ایک ایسے عہد میں منایا گیا جب سرمایہ دارانہ نظام کا بحران مزید گہرا ہو چکا ہے۔ اس بحران کے نتیجے میں دنیا بھر میں جنگیں، خانہ جنگیاں، مہنگائی اور بیروزگاری میں شدید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حکمران طبقہ ایک طرف محنت کشوں کا استحصال تیز ترین کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف خود عیاشیوں میں مصروف ہیں۔ تاہم اس کے برعکس، عالمی سطح پر اس نظام اور اس کے رکھوالوں کے خلاف محنت کش طبقے کی انقلابی تحریکوں، بغاوتوں اور انقلابات کی ایک نئی لہر بھی ابھر رہی ہے، جو اس بات کا واضح اظہار ہے کہ یہ نظام تاریخی طور پر اپنی حدود کو پہنچ چکا ہے۔

اسی تسلسل میں پاکستان کے حکمران طبقے اور ملکی و عالمی سرمایہ دار نہ صرف مزدوروں پر معاشی بوجھ ڈال رہے ہیں بلکہ جمہوری آزادیوں پر بھی مسلسل قدغنیں لگا رہے ہیں۔ ان حالات میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی نے یومِ مئی، محنت کشوں کے عالمی دن کو محض ایک رسمی دن کے طور پر نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کے انقلابی پیغام کے ساتھ منایا۔ اس سلسلے میں لاہور، قصور اور پتوکی میں ریلیوں، اجلاس اور سٹڈی سرکلز کا انعقاد کیا گیا۔

لاہور میں انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی دفتر میں ”سامراج کو کیسے شکست دی جا سکتی ہے؟“ کے عنوان سے ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔ پروگرام کی تیاری کے سلسلے میں شہر کے محنت کشوں اور طلبہ علاقوں میں بھرپور پوسٹر کمپین چلائی گئی اور محنت کشوں و طلبہ کو پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی۔

پروگرام کا آغاز 1 مئی کے دن شام 4 بجے ہوا، جس میں کامریڈ ثناء اللہ جلبانی نے یومِ مئی کی تاریخ، اس کی انقلابی اہمیت اور آج کے عہد میں اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے شکاگو کے محنت کشوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کی جدوجہد محنت کش طبقے کی اجتماعی طاقت کا اظہار تھی اور آج بھی یہی طاقت سرمایہ دارانہ جبر کے خلاف فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔ مزید برآں انہوں نے سامراجی طاقتوں کے خلاف ابھرنے والی عالمی تحریکوں کو موجودہ عہد کے انقلابی امکانات کی جھلک قرار دیا۔

اس کے بعد کامریڈ سلمیٰ نے پاکستان میں جاری مزدور تحریکوں پر بات کرتے ہوئے کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کی جدوجہد اور اس کی حاصلات کو اجاگر کیا اور پنجاب کے سرکاری ملازمین کی تحریک کو محنت کش طبقے کی ابھرتی ہوئی مزاحمت کی مثال کے طور پر پیش کیا۔

پروگرام کے دوران شرکاء نے فیض احمد فیض، حبیب جالب اور تجمل کلیم کی انقلابی شاعری پیش کی، جس نے محفل کو ایک ولولہ انگیز فضا میں تبدیل کر دیا۔ بعد ازاں کامریڈ حسن جعفر زیدی نے 1968-69ء کی انقلابی تحریک، مزدوروں کی عام ہڑتالوں اور طلبہ کی جدوجہد پر تفصیل سے روشنی ڈالی، جبکہ شبیر جی نے پنجاب میں برطانوی سامراج کے خلاف تاریخی تحریکوں کا احاطہ کیا۔

پروگرام کے اختتام پر کامریڈ ارسلان اور جی سی یونیورسٹی کے طالبعلم و پارٹی ممبر شعیب نے موجودہ حالات میں مزدوروں اور طلبہ کی مشترکہ جدوجہد کی ناگزیر ضرورت اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے کردار پر زور دیا۔ آخر میں پارٹی کے مرکزی رہنما کامریڈ آفتاب نے امریکی سامراج کے نسبتی زوال اور عالمی سطح پر اس کی کمزوری پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ سامراجی طاقتیں اپنے اندرونی تضادات اور محنت کش عوام کی ابھرتی ہوئی تحریکوں کے باعث کمزور ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سامراج کی حتمی شکست صرف محنت کش طبقے کی بین الاقوامی انقلابی جدوجہد کے ذریعے ہی ممکن ہے، جو سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی راہ ہموار کرے گی۔

اس پروگرام میں طلبہ، مزدوروں اور ترقی پسند سیاسی کارکنان نے بھرپور شرکت کی، جبکہ پروگرام کے بعد ایک طالبہ نے پارٹی میں شمولیت کا اظہار بھی کیا۔

اسی طرح پتوکی میں بھی ”سامراج کو کیسے شکست دی جا سکتی ہے؟“ کے موضوع پر پروگرام منعقد کیا گیا، جس سے قبل مزدور اڈہ سے لاہور اڈہ تک ایک ریلی نکالی گئی۔ ریلی کے بعد کامریڈز نے مزدور اڈہ پر محنت کشوں سے براہ راست گفتگو کی، ان کے مسائل سنے اور ان کے حل کے لیے آئندہ کی تنظیمی سرگرمیوں کا لائحہ عمل ترتیب دیا۔ اس پروگرام میں طلبہ، فیکٹری ورکرز اور نرسری ورکرز نے شرکت کی۔ پروگرام سے قبل شہر میں پوسٹر کمپین کے ذریعے بھرپور رابطہ مہم بھی چلائی گئی۔ پروگرام کے اختتام پر ایک نوجوان نے پارٹی کی باقاعدہ رکنیت اختیار کرنے کا اعلان کیا۔

قصور شہر میں سٹیل باغ پارک میں ”سامراج کو کیسے شکست دی جا سکتی ہے؟“ کے موضوع پر ایک سٹڈی سرکل منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام سے قبل مختلف علاقوں میں پوسٹر کمپین چلائی گئی۔ اس پروگرام کی تیاری میں کالج کے طلبہ اور واپڈا کے ملازمین، جو پارٹی کے ممبران بھی ہیں، نے کلیدی کردار ادا کیا۔

تینوں پروگراموں کے اختتام پر گلگت بلتستان میں گرفتار کامریڈ احسان علی ایڈووکیٹ کی رہائی کے لیے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا گیا۔ انہیں گلگت بلتستان میں مہنگائی اور پاکستانی ریاست کی جانب سے وسائل کی لوٹ مار کے خلاف عوامی تحریک چلانے کی پاداش میں قید کیا گیا ہے۔ وہ عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی رہنما ہیں اور ان کی گرفتاری ریاستی جبر کی واضح مثال ہے۔

پاکستان میں اس وقت جنگی صورتحال کو جواز بنا کر پٹرول، بجلی، گیس اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب سرمایہ داروں اور حکمرانوں کو مختلف مدوں میں سبسڈیز دی جا رہی ہیں۔ مہنگائی کا تمام تر بوجھ محنت کش طبقے پر ڈالا جا رہا ہے، بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، مزدوروں کو نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے، تنخواہوں اور الاؤنسز میں کٹوتیاں کی جا رہی ہیں اور عوامی اداروں کو نجکاری کے ذریعے اونے پونے داموں فروخت کیا جا رہا ہے۔

ایسے حالات میں یومِ مئی منانا محض ایک روایت نہیں بلکہ ایک انقلابی فریضہ بن جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کو منظم، مربوط اور انقلابی بنیادوں پر آگے بڑھانا ہو گا۔ انقلابی کمیونسٹ پارٹی واضح طور پر سمجھتی ہے کہ موجودہ بحران کا کوئی حل سرمایہ داری کے اندر موجود نہیں، بلکہ اس کا واحد متبادل ایک سوشلسٹ انقلاب ہے، جو محنت کش طبقے کی قیادت میں اس استحصالی نظام کا خاتمہ کر کے ایک منصفانہ سماج کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔