|رپورٹ: انقلابی کمیونسٹ پارٹی، خیبرپختونخوا|
انقلاب ثور کی سالگرہ اور یوم مئی (محنت کشوں کے عالمی دن) کی مناسبت سے انقلابی کمیونسٹ پارٹی، خیبرپختونخوا نے چکدرہ دیر لوئر میں ایک تقریب کا انعقاد کیا جس میں سوات، بونیر ملاکنڈ اور دیر سے بڑی تعداد میں طلبہ اور محنت کشوں نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز واجد حیران نے انقلابی نظم سناتے ہوئے کیا۔ انقلاب ثور کی تاریخ اور حاصلات پر کامریڈ نبیل خان نے تفصیلی بحث کی اور کہا کہ ثور انقلاب افغانستان (1978ء) ایک ایسے سماج میں برپا ہوا جو معاشی اور سماجی طور پر انتہائی پسماندہ تھا، جہاں جاگیردارانہ اور قبائلی رشتوں کی بالادستی، کمزور صنعتی بنیاد، محدود مزدور طبقہ اور وسیع غربت موجود تھی۔ اقتدار کی تبدیلی کے بعد زمین کی تقسیم، کسانوں کے قرضوں کی معافی، صنعتوں کو قومیانا، خواتین کے حقوق اور تعلیم کی توسیع جیسے اقدامات کیے گئے، جنہوں نے مختصر عرصے میں ایک ترقی پسند سمت کی نشاندہی کی۔ یہ اصلاحات پرانے استحصالی ڈھانچوں کو توڑنے کی کوشش تھیں، مگر ان کے باوجود انقلاب ایک مضبوط، منظم اور شعوری طبقاتی بنیاد پیدا نہ کر سکا، جس کی وجہ سے عوامی حمایت سیاسی طاقت میں تبدیل نہ ہو سکی۔
اس انقلاب کی ایک بنیادی کمزوری اس کی عالمی سطح پر تنہائی تھی۔ اس وقت نہ کوئی عالمی سوشلسٹ تحریک موجود تھی اور نہ ایسی انقلابی تنظیم اور پارٹی جو مختلف ممالک کی جدوجہد کو ایک مشترکہ پروگرام کے تحت جوڑ سکتی۔ نتیجتاً یہ انقلاب قومی حدود میں محدود ہو کر رہ گیا، جبکہ اندرونی کمزوریاں اور بیرونی دباؤ اس پر غالب آتے گئے۔ اس تنہائی نے ریاستی ڈھانچے میں بیوروکریٹک رجحانات کو جنم دیا، جہاں عوامی شرکت کی بجائے اوپر سے فیصلے مسلط ہوتے گئے۔ یہ تجربہ واضح کرتا ہے کہ اگر کوئی انقلاب عالمی سطح پر پھیلنے اور جڑنے میں ناکام رہے تو وہ یا تو پسپا ہو جاتا ہے یا بیوروکریٹک شکل اختیار کر لیتا ہے۔
اس سارے عمل سے ایک واضح سیاسی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ کسی بھی حقیقی سماجی تبدیلی کے لیے صرف قومی سطح کی جدوجہد کافی نہیں بلکہ ایک منظم عالمی انقلابی تحریک ناگزیر ہے۔ آج کے عہد میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مختلف ممالک کے محنت کشوں کی جدوجہد کو ایک مشترکہ بین الاقوامی پروگرام کے تحت منظم کیا جائے، تاکہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ایک مربوط متبادل کھڑا کیا جا سکے۔ اسی تناظر میں موجودہ انقلابی کوششوں کا مقصد ایک ایسی عالمی تنظیم کی تعمیر ہے جو ماضی کی ناکامیوں سے سیکھتے ہوئے آئندہ کسی بھی انقلاب کو تنہائی اور بیوروکریسی کے جال میں پھنسنے سے بچا سکے اور اسے عالمی سطح پر ایک کامیاب تبدیلی میں بدل سکے اور اسی مقصد کے لیے عالمی سطح پر انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ کامریڈ نبیل خان نے کہا کہ انقلاب ثور اس خطے کے محنت کشوں کی ایک درخشاں وراثت ہے۔ آج بھی پختونخوا سمیت اس پورے خطے کے محنت کش طبقے کی نجات انقلاب ثور کے نظریات میں ہے۔ کامریڈ نے کہا کہ انقلابیوں کو انقلاب ثور کا تفصیل سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی کامیابیوں اور ناکامیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھا جا سکے۔
اس کے بعد کامریڈ شہاب چکدروال، کامریڈ صدیق جان، عمر خان، جاوید خان و دیگر نے خطاب کیا اور یوم مئی کی مناسبت سے عالمی محنت کش طبقے کی تحریکوں، موجودہ علاقائی اور عالمی سیاست اور معیشت پر تفصیلی روشنی ڈالی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ محنت کش طبقے کو مارکسزم کے انقلابی نظریات پر متحد کرتے ہوئے انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے پلیٹ فارم سے سوشلسٹ انقلاب کی جدو جہد کو آگے بڑھائیں گے۔
اس تقریب کے اختتام پر انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھیوں اور تقریب کے شرکاء نے گلگت بلتستان میں عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین اور انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی رہنما کامریڈ احسان علی سمیت عوامی ایکشن کمیٹی، گلگت بلتستان کے دیگر رہنماؤں کی بازیابی کے لیے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور تمام سیاسی کارکنان کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کیا جنہیں گلگت بلتستان میں عوام کے بنیادی حقوق کے لیے اور گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل کی لوٹ مار کرنے کی ریاستی غاضبانہ پالیسیوں کے خلاف عوامی تحریک چلانے کی پاداش میں دو مہینے سے زیادہ کے عرصے سے پابند سلال رکھا گیا ہے اور ان پر ریاستی جبر کیا جا رہا ہے۔
