|تحریر: آفتاب اشرف|

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ لوگوں کو اپنی روز مرہ کی زندگی گزارنے کے لئے فلسفے کا علم ہونا ضروری ہے تو ایسا نہیں ہے۔روز مرہ زندگی کے تمام بنیادی افعال فلسفے کی جانکاری کے بغیر بھی بخوبی ادا کئے جا سکتے ہیں اور سماج کی ایک بھاری اکثریت ایسا ہی کرتی ہے۔لیکن اگر آپ اپنے ارد گرد کی دنیا کی تعقلی سمجھ بوجھ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور فطرت،سماج اور انسانی شعور کی تہہ میں کارفرما عوامل کو سمجھنا چاہتے ہیں تو پھر فلسفہ پڑھنا ضروری ہے۔
روزمرہ کی زندگی میں لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ انہیں پتا ہے کہ”سچ“ کیا ہے اور ”جھوٹ“ کیا ہے یا”صحیح“ کیا ہے اور ”غلط“ کیا ہے لیکن درحقیقت یہ انتہائی پیچیدہ فلسفیانہ سوالات ہیں جن پر پچھلے ہزاروں سالوں سے بحث جاری ہے۔ عام لوگوں کومعاملات کی گہرائی کا اصل اندازہ تب ہوتا ہے جب انہیں خونریز جنگوں،خانہ جنگیوں،معاشی بحران،ریاستی انہدام،عالمی تعلقات میں اتھل پتھل وغیرہ جیسے دیوہیکل سماجی و تاریخی واقعات کا سامنا کرنا پڑتا اور وہ اس کی کوئی مناسب تعقلی وضاحت کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ نتیجتاً وہ ان غیر معمولی واقعات کا مورد الزام انسانی”فطرت“ کو ٹھہرا دیتے ہیں لیکن یہ انسانی فطرت آخر ہے کیا؟یہ بذات خود ایک پیچیدہ فلسفیانہ سوال ہے۔
درحقیقت لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ ان کا کوئی فلسفہ نہیں ہے یا انہیں فلسفے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن فطرت خلا کو ناپسند کرتی ہے لہٰذا جو لوگ خود سے تگ ودو کر کے کوئی فلسفیانہ نقطہ نظر نہیں اپناتے وہ پھر ناگزیر طور پر سماج میں رائج الوقت حکمران طبقات کے فلسفیانہ نقطہ نظر اور تعصبات کو اپنا لیتے ہیں بھلے انہیں شعوری طور اس کا احساس نہ ہو۔درحقیقت کارپوریٹ میڈیا سے لیکر نظام تعلیم اور مذہبی واعظوں سے لیکر رائج الوقت اخلاقیات سب براہ راست یا بالواسطہ طور پر حکمران طبقے کے فلسفیانہ نقطہ نظر کی ہی ترویج کرتے ہیں۔
مگر زیادہ تر لوگ ان تمام پیچیدہ معاملات پر اس وقت تک نہیں سوچتے جب تک کہ دیو ہیکل واقعات انہیں جھنجھوڑ کر ایسا کرنے پر مجبور نہ کر دیں اور تمام رائج الوقت نظریات اور نقطہ ہائے نظر،جنہیں وہ ابھی تک آنکھیں بند کر کے مانتے آئے تھے،پر سوالیہ نشان نہ لگ جائے۔لہٰذا کوئی بھی شخص جو روز مرہ کے معمولات سے بالاتر ہو کر زندگی،سماج،دنیا اور کائنات کو سمجھنا چاہتا ہے،اس کی ایک تعقلی وضاحت چاہتا ہے،اس کے لئے فلسفہ پڑھنا ضروری ہے۔صرف اسی طرح ہی ہم حقیقی معنوں میں شعور یافتہ ہو کر نوع انسان ہونے کا حق ادا کر سکتے ہیں اور اپنے مقدر کو اپنے ہاتھوں میں لے سکتے ہیں۔
بطور کمیونسٹ ہمیں سمجھتے ہیں کہ جدلیاتی مادیت وہ جدید ترین فلسفہ ہے جو پچھلے ڈھائی ہزار سال کی فلسفیانہ غور وفکر کا تعقلی مغز اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور اسی کی بنیاد پر نوع انسان کے ذہن میں ابھرنے والے تمام اہم سوالات کی درست سمجھ بوجھ حاصل کی جا سکتی ہے لیکن ہم آپ کو یہ نہیں کہتے کہ آپ صرف ہمارے کہنے پر ایسا تسلیم کر لیں۔ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ آپ خود فلسفے کا گہرا مطالعہ کریں اور لازمی نتائج اخذ کریں تا کہ پھر ان کا عملی اطلاق کرتے ہوئے دنیا کو نوع انسان کی بھاری اکثریت کے حق میں بہتر کر نے کی جدوجہد کی جا سکے۔اس حوالے سے اگر آپ کو کوئی بھی مدد چاہئے تو آپ انقلابی کمیونسٹ پارٹی کو ہمیشہ تیار پائیں گے۔